ایران کے حملوں میں 228 امریکی فوجی تنصیبات متاثر، خلیجی ممالک نے بھی امریکا سے ہاتھ کھینچ لیا

واشنگٹن / مشرقِ وسطیٰ (کیو این این ورلڈ)امریکی اخبار The Washington Post نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں امریکی فوجی تنصیبات کو امریکی حکومت کے دعوؤں سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا، جبکہ کئی خلیجی ممالک نے امریکا کو اپنی سرزمین سے جارحانہ کارروائیوں کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا۔

واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر اور تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران کے فضائی اور میزائل حملوں میں خطے بھر میں کم از کم 228 امریکی فوجی اسٹرکچرز یا تنصیبات تباہ یا شدید متاثر ہوئیں۔ ان میں ہینگرز، بیرکس، ایندھن کے ذخائر، فوجی طیارے، ریڈار سسٹمز، مواصلاتی تنصیبات اور فضائی دفاعی آلات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے حملوں کے بعد نقصانات کو محدود ظاہر کرنے کی کوشش کی، تاہم سیٹلائٹ تصاویر اور آزاد تجزیوں سے معلوم ہوا کہ تباہی امریکی دعوؤں سے کہیں زیادہ وسیع تھی۔ اخبار نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی حملوں کے بعد خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈے معمول کی کارروائیوں کیلئے انتہائی غیر محفوظ بن گئے، جس کے باعث کئی مقامات سے فوجی اہلکاروں کو فوری طور پر منتقل کرنا پڑا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 28 فروری کے بعد ہونے والی جھڑپوں اور حملوں میں کم از کم 7 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جن میں 6 کویت جبکہ ایک سعودی عرب میں مارا گیا۔ اپریل کے آخر تک 400 سے زائد امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی گئی، جن میں 12 کی حالت تشویشناک قرار دی گئی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جنگی صورتحال کے دوران سیٹلائٹ تصاویر کا حصول بھی غیر معمولی طور پر مشکل بنا دیا گیا کیونکہ کمرشل سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی دو بڑی کمپنیوں کو امریکی حکومت نے خطے کی تصاویر محدود کرنے، تاخیر سے جاری کرنے یا مکمل روکنے کی درخواست کی تھی۔ اس کے باوجود ایرانی سرکاری خبر ایجنسیوں نے اعلیٰ معیار کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کرنا شروع کردیں جن میں امریکی فوجی تنصیبات کی تباہی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایرانی تصاویر کا یورپی یونین کے سیٹلائٹ سسٹم اور دیگر آزاد ذرائع سے موازنہ کیا گیا، جس کے بعد یہ ثابت ہوا کہ تصاویر جعلی نہیں تھیں۔ مزید تجزیے میں 10 ایسے مقامات کی بھی نشاندہی ہوئی جو ایرانی تصاویر میں شامل نہیں تھے مگر وہاں بھی تباہ شدہ ڈھانچے موجود تھے۔ مجموعی طور پر 217 فوجی اسٹرکچرز اور فوجی سازوسامان کے 11 اہم حصے متاثر یا تباہ ہوئے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ان حملوں نے امریکی فوج کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا اور یہ واضح ہوا کہ امریکا جدید ڈرون وارفیئر اور ایران کی حملہ آور صلاحیتوں کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ متعدد امریکی بیسز کو مناسب دفاعی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق قطر کے العدید ایئربیس، بحرین میں رفا اور عیسیٰ ایئربیسز، کویت کے علی السالم ایئر بیس، کیمپ عارفجان اور کیمپ بیورنگ سمیت کئی اہم امریکی فوجی مراکز ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔ ان حملوں میں پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، سیٹلائٹ کمیونیکیشن تنصیبات، پاور پلانٹس، فیول اسٹوریج سسٹمز اور ریڈار ڈھانچے تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔

اسی طرح اردن کے موفق السلطی ایئر بیس، متحدہ عرب امارات کے دفاعی مراکز اور سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر بھی امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جہاں ایک ای-3 سینٹر کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ اور ایندھن فراہم کرنے والا ٹینکر بھی متاثر ہوا۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ بعض خلیجی ممالک نے امریکی فوج کو اپنی سرزمین سے جارحانہ کارروائیاں کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق بحرین اور کویت کے وہ اڈے سب سے زیادہ نشانہ بنے جہاں سے امریکی فوج نے حملے کیے تھے، جن میں HIMARS راکٹ سسٹم بھی استعمال کیا گیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ نے واضح کیا کہ دستیاب سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر کیا گیا یہ تجزیہ صرف جزوی نقصان کو ظاہر کرتا ہے اور اصل نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے