جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ، جسٹس محسن، بابر ستار اور ثمن رفعت کے تبادلے، مخالفت میں 4 ووٹ

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اہم اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلوں کی منظوری دے دی، جبکہ دو ججز کے تبادلوں کی سفارشات واپس لے لی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت ججز کے تبادلوں پر غور کیا گیا۔ کمیشن نے کثرتِ رائے سے جسٹس محسن اختر کیانی کا لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کا پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائی کورٹ تبادلہ منظور کر لیا۔

ذرائع کے مطابق ججز کے تبادلوں کی مخالفت میں چیف جسٹس پاکستان، جسٹس منیب اختر، بیرسٹر گوہر علی خان اور سینیٹر علی ظفر سمیت چار ارکان نے ووٹ دیا۔ ناقدین کا مؤقف تھا کہ ججز کے تبادلوں کے لیے واضح اور شفاف اصول ہونے چاہئیں اور بغیر ٹھوس وجوہات کے ایسے فیصلے نہیں کیے جانے چاہئیں۔

اجلاس کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم سومرو کے تبادلوں کی سفارشات واپس لے لیں۔

تبادلے کے بعد نئی سینیارٹی کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی لاہور ہائی کورٹ میں 12 ویں، جسٹس بابر ستار پشاور ہائی کورٹ میں چھٹے جبکہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز سندھ ہائی کورٹ میں 16 ویں نمبر پر ہوں گے۔

اجلاس سے قبل جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس کے نام خط لکھ کر مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں ذاتی طور پر سنا جائے اور ججز کے تبادلوں کے لیے واضح قواعد و ضوابط طے کیے جائیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تبادلوں کے نتیجے میں خالی ہونے والی اسامیوں کو نئی تقرریوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں بھی تبادلوں کے ذریعے پر کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے