تہران / واشنگٹن / ریاض (کیو این این ورلڈ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اپنے 30ویں روز میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شدید حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بڑے دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں 500 امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک ایف 16 طیارہ بھی مار گرایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق جنوبی فارس کے علاقے میں امریکی ایف 16 طیارے کو نشانہ بنایا گیا جو سعودی ایئر بیس تک پہنچنے سے قبل کریش ہو گیا۔ ایرانی دعوے کے مطابق خطے میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات اور صنعتی مراکز پر بھی شدید حملے کیے گئے ہیں۔ پاسداران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی صنعتوں پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
ایرانی پاسداران نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حیفہ میں ایک اسٹریٹجک الیکٹرانک وارفیئر سینٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ بن گورین ایئر بیس پر ایندھن کے ذخائر کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔
دوسری جانب روس نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ ایران کی پرامن جوہری تنصیبات، بشمول بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ، پر حملے انتہائی خطرناک ہیں اور ان سے بڑے پیمانے پر تابکاری پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ روس نے عالمی برادری سے ایسے اقدامات کی سخت مخالفت کا مطالبہ کیا ہے۔
یمن کے حوثی جنگجوؤں نے بھی اسرائیل پر دوسرے میزائل حملے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جنوبی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں حملے کیے گئے، جن کے اہداف میں اہم فوجی تنصیبات شامل تھیں۔ حوثیوں نے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران اور حزب اللہ کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کے تحت کی گئیں اور آئندہ دنوں میں مزید حملوں کا امکان ہے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ماہ کے دوران ایران کے خلاف کارروائیوں میں 11 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ 150 سے زائد بحری اور فضائی وسائل کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایران کے ساحلی علاقوں، بشمول خارگ جزیرے، پر محدود زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جس میں خصوصی دستے اور روایتی فوجی یونٹس شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔
ایران کے اندرونی سیاسی حلقوں میں بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ اور دیگر ادارے ملک کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے علیحدگی پر غور کر رہے ہیں۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں این پی ٹی میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا اور اس اقدام کا مقصد مبینہ غیر ملکی نگرانی اور جاسوسی کو روکنا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے ایک اور سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کو بھی ممکنہ اہداف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ بیان میں تعلیمی اداروں کے عملے، طلبہ اور قریبی رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان علاقوں سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں۔
یہ دھمکی ایران کی ایک یونیورسٹی پر حملے کے ردعمل میں دی گئی ہے۔ پاسداران کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران ایران کی جامعات اور تحقیقی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکا میں جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق “نو کنگز” کے نام سے ہونے والے احتجاج میں تقریباً 70 لاکھ افراد نے شرکت کی، جنہوں نے جنگ بندی اور پالیسی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔
نیویارک میں منعقدہ ایک بڑی تقریب میں ہالی وڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے بھی خطاب کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کا غلط استعمال روکنا ضروری ہے اور کرپٹ قیادت کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔
مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی 50 ریاستوں میں ہزاروں احتجاجی مظاہرے مزید جاری رہیں گے۔
ادھر ایرانی ہلال احمر سوسائٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی 93 ہزار سے زائد سویلین املاک تباہ ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں رہائشی عمارتیں، تجارتی مراکز، 600 اسکول اور 295 طبی مراکز متاثر ہوئے ہیں، جبکہ صرف تہران میں 31 ہزار سے زائد املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
جنگی صورتحال مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے بیانات اور عالمی سطح پر احتجاج اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔