امریکا ایران کشیدگی: پاکستان ثالثی کیلئے میدان میں آگیا

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر کی سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ مختلف عالمی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ ممالک فریقین کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور معاہدے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر نہ صرف کشیدگی میں کمی کے لیے کوشاں ہیں بلکہ دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور بیک چینل رابطوں میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران رضامند ہوں تو وہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے بھی تیار ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور فریقین کی رضامندی کی صورت میں مذاکرات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر Donald Trump اور ایرانی قیادت کے بیانات میں واضح تضاد پایا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے ہیں اور کئی اہم نکات پر پیش رفت بھی ہوئی ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق سفارتی کوششیں اس نہج تک پہنچ چکی ہیں کہ رواں ہفتے اسلام آباد میں اعلیٰ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ممکنہ ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔ ایران کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ امریکا اس تنازع کو ایران کے خلاف جارحیت تسلیم کرے اور ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی کرے۔

مزید برآں ایران نے عندیہ دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ امریکی کارروائی کی صورت میں وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ تنازع اب صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں خطے کے دیگر اہم فریقین بھی شامل ہو چکے ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق پاکستان خود کو اس بحران کے خاتمے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کے ایران کے ساتھ قریبی روابط اور امریکی صدر Donald Trump کے ساتھ بہتر تعلقات کو سفارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ سطح پر بیک چینل رابطے بھی جاری ہیں، جن کے ذریعے امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکیہ نے امریکی نمائندوں اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں سہولت کاری کی ہے۔

دوسری جانب ایک اسرائیلی تجزیہ کار نے اس تمام صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا ہے کہ پس پردہ اہم پیش رفت جاری ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض دعوے نہیں بلکہ عملی سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں، اگرچہ ایران کی جانب سے ان کی تردید کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے امکانات پہلے سے زیادہ روشن دکھائی دے رہے ہیں، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے