ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، یورپی یونین کا واضح اعلان

برسلز (کیو این این ورلڈ):امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں برطانیہ کے بعد یورپی یونین نے بھی ایران کے خلاف جاری جنگ میں براہِ راست شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی جنگ نہیں اور وہ اس تنازع میں فوجی کردار ادا کرنے کے بجائے سفارتی کوششوں اور انسانی امداد پر توجہ دیں گے۔

یورپی یونین کے رکن ممالک کے خارجہ وزراء کی برسلز میں ہونے والی مشاورت کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی یا آبنائے ہرمز میں جنگی مشن کے لیے یورپی جنگی جہاز بھیجنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ یورپی حکام کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر بھی واضح کر چکے ہیں کہ برطانیہ مشرق وسطیٰ میں کسی وسیع تر جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اپنے اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے اقدامات ضرور کر رہا ہے، تاہم براہِ راست جنگ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔

برطانوی حکومت کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر قابل عمل منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، تاہم یہ کوئی نیٹو مشن نہیں ہوگا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے کئی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور اتحادیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔

ادھر جرمن حکومت نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نیٹو کی جنگ نہیں ہے۔ جرمن چانسلر کے ترجمان سٹیفن کورنیلیس نے پریس کانفرنس میں کہا کہ نیٹو ایک علاقائی دفاعی اتحاد ہے اور موجودہ صورتحال میں نیٹو افواج کی تعیناتی کا کوئی جواز موجود نہیں۔

اسی طرح یونانی حکومت کے ترجمان پاولوس ماریناکس نے بھی اعلان کیا ہے کہ یونان آبنائے ہرمز میں کسی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا اور صرف یورپی یونین کے بحری مشن کے تحت بحیرہ احمر میں جہازوں کے تحفظ تک محدود رہے گا۔

یورپی یونین کے اس موقف کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی مبصرین کے مطابق اس جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے