اوکاڑہ ( کیو این این ورلڈ/بیورو چیف ملک ظفر) جامعہ اوکاڑہ کی سنڈیکیٹ نے اپنے 28ویں اجلاس میں اہم فیصلے کرتے ہوئے سلیکشن بورڈ کی سفارشات پر 61 نئی تقرریوں اور 4 ترقیوں کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مالی سال 26-2025 کے لیے 1700 ملین روپے کے نظرثانی شدہ بجٹ کی بھی توثیق کر دی گئی ہے۔ یہ بجٹ 19ویں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں تیار کیا گیا تھا۔
اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے کی۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی قیادت میں یونیورسٹی میں ہونے والی شفافیت، میرٹ کی پاسداری اور انفراسٹرکچر کی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ درست سمت میں گامزن ہے۔ رجسٹرار جمیل عاصم نے ایجنڈا پیش کیا جبکہ پبلک ریلیشن آفیسر شرجیل احمد نے یونیورسٹی کی ترقیاتی رپورٹ پیش کی۔
منظور کی گئی تقرریوں میں مالیکیولر بایولوجی، قانون، بین الاقوامی تعلقات، فائن آرٹس، کیمسٹری، کامرس، اسلامیات، انگریزی، سپیشل ایجوکیشن، بایو کیمسٹری، مینجمنٹ سائنسز اور سوشیالوجی کے اساتذہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ORIC، اسسٹنٹ انجینئر اور ڈپٹی ٹریثرر جیسے اہم انتظامی عہدوں پر بھی تعیناتیوں کی متفقہ منظوری دی گئی ہے۔
سنڈیکیٹ نے ڈے کیئر سینٹر اور ہاؤس الاٹمنٹ سے متعلق پالیسیوں سمیت مختلف فیکلٹی ممبران کی چھٹیوں کے کیسز کی بھی توثیق کی۔ اجلاس میں اراکین سنڈیکیٹ پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد، پروفیسر ڈاکٹر محمد واجد، سلمان غنی، مظہر علی خان، زاہدہ اظہر، میاں منیر احمد، چوہدری جاوید علاؤالدین اور دیگر بھی موجود تھے۔
اجلاس کے دوران ایڈیشنل رجسٹرار وقار احمد شیخ نے شعبہ فزکس کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہلا ہنی کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کی خلاف ورزی، مالی بے ضابطگیوں، بدانتظامی اور بیرون ملک غیر قانونی دوروں کی نشاندہی کی گئی، جس پر سنڈیکیٹ نے پیڈا ایکٹ کے تحت اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔