واشنگٹن/ماسکو (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ بڑی حد تک مکمل ہو چکی ہے اور امریکی فوج اپنے مقررہ ہدف سے کافی آگے چل رہی ہے۔ امریکی ٹی وی "سی بی ایس” سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ابتدا میں اس جنگ کے 4 سے 5 ہفتے جاری رہنے کا اندازہ لگایا گیا تھا، تاہم اب یہ اپنے اختتام کے قریب ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایرانی دفاعی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد اب ایران کے پاس نہ تو مؤثر بحریہ باقی رہی ہے اور نہ ہی اس کا مواصلاتی نظام یا فضائیہ فعال ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائل اور ڈرونز کے ذخائر سمیت ان کی تیاری کی تنصیبات کو بھی مکمل طور پر نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد عسکری طور پر ایران کے پاس اب کچھ باقی نہیں رہا۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں ایران کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اس جنگ کو جلد ختم کریں، جبکہ روسی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے کچھ تجاویز بھی پیش کیں۔ اس گفتگو میں یوکرین تنازع، وینزویلا کی صورتحال اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے بحران پر بھی بات چیت کی گئی۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس سے قبل اپنے ایک بیان میں امریکہ اور اسرائیل کو عالمی توانائی کے بحران کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ انہوں نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد کا پیغام بھی بھیجا، جس میں انہوں نے کہا کہ مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مشن کو وقار کے ساتھ جاری رکھیں گے اور ایرانی قوم کو متحد رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔