انقرہ (کیو این این ورلڈ) ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر اپنے اہم بیان میں کہا ہے کہ ترکیہ کا بنیادی مقصد اپنے ملک کو ایران میں جاری جنگ کے اثرات سے دور رکھنا ہے، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ایک بھی شہری کو کسی قسم کا نقصان پہنچے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ کا موقف روزِ اول سے بالکل واضح ہے کہ معاملات کو خونریزی کے بجائے مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک خطے میں مزید کشیدگی کا حامی نہیں ہے اور تنازعات کے حل کے لیے پہلے دن سے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔

طیب اردوان نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہم اپنے ایف 16 طیاروں کے ذریعے اپنی فضائی حدود کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ملکی سرحدوں اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ مزید خونریزی روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

ترک صدر نے مزید کہا کہ ہم تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ہماری تمام تر کوششیں اسی سمت میں ہیں کہ خطے میں امن و استحکام کو دوبارہ بحال کیا جا سکے، کیونکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے