رینگتی عوام، خاموش حکام!
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
آج کی دنیا میں لکھنے کے لیے موضوعات کی کمی نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سلگتی ہوئی آگ ہو یا ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکہ کی جابرانہ جنگجو پالیسیاں ہوں یا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا اس پیچیدہ عالمی گٹھ جوڑ میں مکروہ کردار، پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر جاری تناؤ ہو یا پسِ پردہ مودی-نیتن یاہو کا انسانیت دشمن اتحاد – یہ سب ایسے موضوعات ہیں جو عالمی سیاست کی ہولناک پیچیدگیوں کو عیاں کرتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں سری لنکا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں امریکی آبدوز کا ایرانی بحری جہاز پر حملہ، جس میں 80 سے زائد قیمتی جانوں کا زیاں ہوا، ایک ایسا لرزہ خیز واقعہ ہے جس پر قلم اٹھایا جائے تو لفظ ختم ہونے کا نام نہ لیں۔ مگر آج میرا دل ان عالمی بحرانوں سے ہٹ کر اپنے گھر کی اس آگ پر رونے کو تڑپ رہا ہے جو ہماری رگوں میں خون کے بجائے بے بسی دوڑا رہی ہے۔ آج کا موضوع ان دور دراز کے محاذوں سے ہٹ کر وہ خاموش جنگ ہے جو پاکستان کی عوام کے خلاف اپنوں ہی کے ایوانوں میں لڑی جا رہی ہے۔

گذشتہ روز کی ایک خبر نے ایک بار پھر عوام کے رستے ہوئے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کو مزید مہنگی کرنے کا پروانہ جاری کر دیا ہے۔ جنوری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک روپے 63 پیسے فی یونٹ کا حالیہ اضافہ مارچ کے بلوں میں کسی زہریلے ناگ کی طرح عوام کو ڈسے گا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ صرف ایک روز قبل ہی نیپرا نے سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی 35 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا تھا۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ غریب کی کمر پر لادے گئے وہ بوجھ ہیں جو اسے جیتے جی منوں مٹی تلے دبا رہے ہیں۔ سفید پوش طبقے کے لیے بجلی اب ضرورت نہیں بلکہ ایک ایسی "لگزری” بنتی جا رہی ہے جس کا بل دیکھ کر گھروں میں صفِ ماتم بچھ جاتی ہے۔ حکمرانوں کے محلات روشن ہیں، مگر غریب کے جھونپڑے کا دیا بجھانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

مصرعہ تو یہ ہے کہ "یہ صرف بجلی کا معاملہ نہیں”، بلکہ ظلم کی داستان اب ڈیجیٹل ہو چکی ہے۔ پاکستان کے کروڑوں موبائل صارفین اس وقت ایک ایسی لوٹ مار کا شکار ہیں جس کی مثال کسی مہذب معاشرے میں نہیں ملتی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی مبینہ سرپرستی میں یہ "دن دہاڑے ڈکیتی” بلا روک ٹوک جاری ہے۔ آٹو سبسکرپشن کے نام پر صارف کی جیب سے بغیر اجازت پیسے نکال لیے جاتے ہیں، سروس کے نام پر سگنلز غائب ہوتے ہیں مگر پیکیجز کی قیمتیں مریخ کو چھو رہی ہیں۔ یہ موبائل کمپنیاں کسی عالمی غنڈہ گردی کی طرح صارفین کا بیلنس ہڑپ کر رہی ہیں اور ریگولیٹری ادارہ پی ٹی اے ایک مصلحت پسند خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ کیا ان کمپنیوں کو عوام کی کھال اتارنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے؟ کیا یہاں بھی وزارتِ پاور کی طرح کوئی ایسا نادیدہ ہاتھ موجود ہے جو عوام کے احتجاج کو فائلوں تلے دبا دیتا ہے؟

یہ منظم خاموشی دراصل ایک گہری سازش کی بو دے رہی ہے۔ ایک طرف عالمی بحرانوں کا مصنوعی شور برپا کیا جاتا ہے تاکہ میڈیا اور عوام کی توجہ بٹائی جا سکے، اور دوسری طرف عوام کی رگِ جاں سے آخری قطرہ نچوڑنے کا عمل خاموشی سے جاری رہے۔ پاکستان کی عوام آج "رینگتی” ہوئی محسوس ہوتی ہے – مہنگائی کی زنجیروں میں جکڑی، بے بسی کی تصویر بنی ہوئی۔ بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننا پڑتا ہے اور رہی سہی کسر موبائل کمپنیوں کی یہ لوٹ مار نکال دیتی ہے جس نے رابطے کی آخری سہولت کو بھی عذاب بنا دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نیپرا اور پی ٹی اے جیسے ادارے کس کے نمک خوار ہیں؟ کیا ان کی تشکیل عوام کی حفاظت کے لیے ہوئی تھی یا ان کا مقصد کارپوریٹ مافیا کی پشت پناہی کرنا ہے؟

وقت آ گیا ہے کہ یہ مجرمانہ خاموشی ٹوٹے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب رینگتے ہوئے انسانوں کی سسکیاں شور بنتی ہیں تو پھر ایوانوں کے در و دیوار لرز اٹھتے ہیں۔ میڈیا کو اب عالمی موضوعات سے تھوڑی دیر کے لیے نظریں ہٹا کر اس رینگتی ہوئی عوام کے نوحے کو اپنی سرخی بنانا ہو گا۔ اگر حکومتی اداروں نے اپنا قبلہ درست نہ کیا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے کمپنیوں کا آلہ کار بنے رہے، تو یاد رکھیے کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہوتے دیر نہیں لگتی۔ خاموشی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، اور جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر طاقت کی دیواریں ریت کا ڈھیر ثابت ہوتی ہیں۔ تب سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتا ہے اور ظالموں کو سنبھلنے تو کیا، بھاگنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ اب بھی وقت ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور عوام کے دکھ اور تکلیف کو سمجھیں، ورنہ تاریخ کا پہیہ کسی کو معاف نہیں کرتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے