اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے "آپریشن غضب للحق” کی تازہ ترین صورتحال جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان رجیم کے 464 کارندے ہلاک اور 665 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
وزیرِ اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں بتایا کہ پاکستانی افواج نے افغان سرحد کے اس پار مؤثر کارروائی کرتے ہوئے طالبان رجیم کی 188 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دیں، جبکہ 31 اسٹریٹجک پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ اس آپریشن کے دوران دشمن کے 192 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز بھی تباہ کی گئی ہیں۔
عطا تارڑ کے مطابق، افغانستان بھر میں کابل، قندھار، بگرام ایئر فیلڈ، ننگرہار اور خوست سمیت 56 مقامات کو فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں طالبان کے امونیشن ڈپوز، ڈرون اسٹوریج اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ننگرہار میں ایک کامیاب فضائی کارروائی کے دوران ‘خوگانی بیس’ کو بھی مکمل طور پر ملیا میٹ کر دیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن افغان طالبان کی جانب سے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کی گئی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں شروع کیا گیا ہے۔ حالیہ جھڑپوں میں افغان طالبان نے قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن کے اضلاع میں 16 مقامات پر زمینی حملے کیے، جنہیں پاک فوج نے پسپا کر دیا۔ ان جھڑپوں میں مزید 67 کارندے ہلاک ہوئے، جبکہ مادرِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے ایف سی کا ایک جوان شہید اور پانچ زخمی ہوئے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان کی سرپرستی میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور ‘فتنہ الخوارج’ جیسے گروہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی کر رہے ہیں، جس کا قلع قمع کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ وزیرِ اطلاعات نے واضح کیا کہ "آپریشن غضب للحق” اپنے تمام اہداف کے حصول تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس وقت اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور فروری کے آخر سے شروع ہونے والی یہ جھڑپیں اب ایک باقاعدہ سرحدی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ عالمی برادری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔