مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہ فجیرہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے بعد خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور تشویشناک ہو گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع اہم تجارتی و توانائی مرکز، Port of Fujairah پر ڈرون حملہ کیا۔ یہ بندرگاہ عالمی سطح پر بحری ایندھن کی ترسیل کا دوسرا سب سے بڑا مرکز سمجھی جاتی ہے اور اسے اس لیے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ یہاں سے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر بحیرۂ عمان کے راستے تیل اور دیگر مصنوعات کی محدود ترسیل کر سکتے ہیں۔
حملے کے بعد بندرگاہ انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے تحت اپنی تمام سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دیں۔ بعد ازاں اماراتی حکام نے بتایا کہ حملہ آور ڈرون کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا، تاہم اس کا ملبہ گرنے سے آئل زون میں آگ بھڑک اٹھی۔ فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔ حکام کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور تیل کی ترسیل و ذخیرہ اندوزی کا عمل معمول کے مطابق جاری رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فجیرہ کو مشرقِ وسطیٰ میں ریفائنڈ آئل مصنوعات کے سب سے بڑے کمرشل ذخائر کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے، اس لیے اس مقام کو نشانہ بنایا جانا عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس نوعیت کے حملے تسلسل اختیار کرتے ہیں تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قطر میں قائم امریکی فوجی اڈے Al Udeid Air Base کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا عسکری مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اسرائیل کی حالیہ سرگرمیوں کے ردعمل میں کی گئیں۔
ادھر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے کی عمارت سے دو ڈرون ٹکرانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس پر سعودی حکام نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے بلا جواز اور بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے۔
اس دوران اسرائیل نے بھی اپنی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں نئی پوزیشنز سنبھالنے کے لیے زمینی پیش قدمی کی گئی ہے اور کارروائیوں کا مقصد حزب اللہ کے جنگجوؤں کا خاتمہ ہے۔ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے تہران میں ایرانی صدارتی دفتر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
علاقائی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر فرانس نے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں اپنے جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں، جبکہ قبرص کے دفاع کے لیے بحری جہاز روانہ کیے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق قبرص میں موجود ایک برطانوی فضائی اڈے کو بھی حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد یورپی ممالک نے سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔
ایرانی فوج کے ایک اعلیٰ جنرل نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو تہران آبنائے ہرمز میں ہر جہاز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ Strait of Hormuz عالمی تیل ترسیل کا سب سے اہم گزرگاہی راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے خام تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ کسی بھی ممکنہ بندش یا عسکری تصادم کی صورت میں عالمی توانائی سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں غیر معمولی سطح تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔
مجموعی طور پر خلیجی خطہ اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جہاں ایک جانب عسکری کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں تو دوسری جانب عالمی برادری ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔