کراچی (کیو این این ورلڈ/ڈاکٹربشیراحمدبلوچ کی رپورٹ) شہرِ قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مبینہ مقابلوں اور چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 8 زخمیوں سمیت مجموعی طور پر 17 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ایک افسوسناک واقعے میں نوجوان نے منگنی ٹوٹنے پر دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر لی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس نے سکھن، زمان ٹاؤن، شارع نور جہاں، سرجانی ٹاؤن، گلبرگ اور سپر مارکیٹ کے علاقوں میں مبینہ مقابلوں کے دوران 13 ملزمان کو حراست میں لیا۔ ان مقابلوں میں 8 ملزمان وسیم، محمد اقبال، عرفان علی، ندیم احمد، عبداللہ شاہ، اویس، غلام عباس اور وزیر زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے بڑی مقدار میں غیر قانونی اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور چوری شدہ موٹرسائیکلیں برآمد ہوئی ہیں۔ تمام ملزمان کے خلاف متعلقہ تھانوں میں مقدمات درج کر کے ان کا سابقہ کرمنل ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے۔
ایک اور کارروائی میں بن قاسم پولیس نے اسٹیل مل سے اسکریپ اور کاپر وائر چوری کرنے والے گروہ کے 4 ملزمان جہانگیر، عبدالرحیم، عقیل اور عادل کو گرفتار کیا۔ ترجمان ملیر پولیس کے مطابق ملزم عقیل نے خود کو رینجرز کا اہلکار ظاہر کیا تھا، تاہم تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اسے پہلے ہی ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے۔ ملزمان کے قبضے سے 35 کلو کاپر وائر برآمد ہوا ہے۔
دوسری جانب سچل تھانے کی حدود سعدی ٹاؤن بلاک 2 میں ایک گودام سے 21 سالہ نوجوان منیب کی گولی لگی لاش ملی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق متوفی نے منگنی ٹوٹنے کے غم میں دلبرداشتہ ہو کر اپنے والد کے لائسنس یافتہ پستول سے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کیا۔
پولیس نے تمام واقعات کی قانونی کارروائی مکمل کر لی ہے اور مزید چھان بین کا عمل جاری ہے۔ شہر بھر میں اسٹریٹ کرائمز اور چوری کی وارداتوں میں ملوث دیگر گروہوں کی سرکوبی کے لیے سرچ آپریشنز کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے۔