تل ابیب (کیو این این ورلڈ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ہے جہاں ایران نے رات گئے بحرین، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت میں قائم 6 امریکی فوجی اڈوں سمیت اسرائیل کے مختلف شہروں پر درجنوں میزائل داغ دیے ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی حملوں میں اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ تل ابیب، حیفا اور مشرقی بیت المقدس میں بھی شدید دھماکے سنے گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں جدید ‘خیبر’ میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔
حملوں کے بعد اردن میں موجود امریکی سفارتخانہ خالی کروا لیا گیا ہے اور عملے کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تہران میں نشریاتی ادارے کی عمارت سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
روسی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اردن کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائل روکنے کی کوشش کی جو ناکام رہی اور دفاعی میزائل اپنے ہی فوجی اڈے سے جا ٹکرایا، جس کے نتیجے میں پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔
ادھر قطری وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے قطر کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایران کے 98 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 24 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے جواب میں امریکہ کے نشانے پر آنے کا خدشہ تھا، اس لیے جانی نقصان سے بچنے کے لیے امریکہ جنگ میں شریک ہوا۔ تاہم رکن کانگریس جواکھم کاسترو نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے امریکہ کو دانستہ طور پر خطرے میں ڈالا ہے۔
علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر متحدہ عرب امارات اور قطر نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے میں مدد کریں تاکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو روکا جا سکے اور تنازع کا فوری سفارتی حل نکالا جا سکے۔