اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کسی بھی ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
صدر مملکت نے اپنے خطاب کے آغاز میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا اور ایران پر ہونے والے حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے برادر ملک کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ بطور دو بار منتخب صدر یہ پارلیمنٹ سے ان کا نواں خطاب ہے جو جمہوری نظام کے تسلسل کی علامت ہے، انہوں نے زور دیا کہ قوموں کا امتحان بحرانوں اور اہم موڑ پر ہوتا ہے، ہمیں ملکی خودمختاری اور آئین کی حکمرانی کو ہر صورت مقدم رکھنا ہے۔
صدر نے قومی جدوجہد کے معماروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم نے قانون کی حکمرانی کا تصور دیا، ذوالفقار علی بھٹو نے متفقہ آئین دیا اور بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کو مضبوط کیا، جبکہ انہوں نے خود اپنے پچھلے دور میں اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کر کے اصل آئین بحال کیا۔
ملکی دفاع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ گزشتہ 10 ماہ میں قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا، ہماری بہادر افواج نے بھارتی حملے کو تاریخی تزویراتی فتح میں بدل دیا اور جب بھی قومی خودمختاری کو چیلنج کیا گیا، پاکستان نے مضبوط جواب دیا۔
انہوں نے حالیہ سرحدی صورتحال پر کہا کہ افغان طالبان کو افواج پاکستان نے فیصلہ کن جواب دیا ہے، 26 فروری کی رات طالبان رجیم کے مغربی سرحد پر حملوں کو ہماری سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا کر واضح کر دیا کہ کسی بھی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صدر مملکت نے افواج پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے نڈر سپوتوں کی بہادری اور مستعدی کی بدولت ہم آج محفوظ ہیں، ان کی خدمات اور قربانیوں کو محض اعداد و شمار میں نہیں سمیٹا جا سکتا، پوری قوم ان کے کارناموں پر فخر کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور عالمی قوانین کے تحت ہمیں اپنی حفاظت کا پورا حق حاصل ہے، افغانستان دہشت گرد گروہوں کو پناہ مہیا کر رہا ہے، تاہم ہم نے کبھی بھی ڈائیلاگ سے انکار نہیں کیا لیکن امن کی تباہی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔