مقبوضہ بیت المقدس (کیو این این ورلڈ) مقبوضہ بیت المقدس کے نواحی علاقے بیت شمش میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں کم از کم 9 اسرائیلی ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق مقامی پولیس سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت حملے کے وقت ایک عوامی بم شیلٹر میں پناہ لیے ہوئے تھی جو میزائل کی تاب نہ لا سکا۔
متعلقہ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی میزائل براہِ راست پناہ گاہ پر گرا، جس کے باعث وہاں موجود افراد جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جون میں ایران کے ساتھ ہونے والی گزشتہ جھڑپوں کے دوران ہی پولیس کو یہ علم ہو چکا تھا کہ یہ عوامی پناہ گاہیں بیلسٹک میزائل کے براہِ راست حملے کی شدت برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بیت شمش کا علاقہ تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں اسرائیل کی نیوکلیئر تنصیبات سمیت دیگر حساس فوجی مراکز بھی موجود ہیں۔ اس حملے نے اسرائیلی دفاعی نظام کی کارکردگی پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں اور علاقے میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ جدید ترین دفاعی نظام کے باوجود ایرانی میزائل کو فضا میں کیوں نہیں روکا جا سکا اور یہ اپنے ہدف تک پہنچنے میں کیسے کامیاب رہا۔