کراچی ،لاہور(کیو این این ورلڈ) ایران پر مبینہ امریکی و اسرائیلی حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر پھیلنے کے بعد کراچی اور لاہور میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد نے امریکی قونصلیٹ کی جانب مارچ کیا اور بیرونی سیکیورٹی حصار عبور کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران پتھراؤ کیا گیا جس پر پولیس اور رینجرز نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ حکام کے مطابق مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا گیا تاہم صورتحال کشیدہ رہی۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق جھڑپوں کے دوران جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ سول اسپتال کے ٹراما سینٹر میں متعدد لاشیں لائی گئیں جبکہ دو درجن سے زائد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں بعض افراد فائرنگ، لاٹھی چارج اور بھگدڑ کے باعث زخمی ہوئے۔

حکومت سندھ نے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین نے قونصلیٹ کے بیرونی حصار کو عبور کر کے اندر توڑ پھوڑ کی، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ صوبائی حکومت کے مطابق واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے جو اس بات کا تعین کرے گی کہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا اور اس کے اسباب کیا تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جمہوری اور آئینی حقِ احتجاج کا احترام کیا جاتا ہے، تاہم قانون ہاتھ میں لینے اور تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

کراچی میں احتجاج کے باعث سلطان آباد سے مائی کولاچی جانے والی سڑک کو بند کر دیا گیا جبکہ اطراف میں ٹریفک کی آمد و رفت معطل رہی۔ بوٹ بیسن سے آنے والی گاڑیوں کو مائی کولاچی پھاٹک سے یوٹرن کروایا گیا جبکہ پی آئی ڈی سی سے آنے والی ٹریفک کو پارک کٹ سے واپس بھیجا گیا۔ جناح برج سے آنے والی گاڑیوں کا رخ آئی آئی چندریگر روڈ کی جانب موڑ دیا گیا۔

دوسری جانب لاہور میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جہاں لاہور پریس کلب کے باہر مظاہرین نے دھرنا دیا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کو امریکی قونصلیٹ کی جانب جانے سے روک دیا گیا اور صورتحال کو قابو میں رکھا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے اور امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے۔

سیکیورٹی اداروں کی جانب سے دونوں شہروں میں حساس مقامات پر نفری بڑھا دی گئی ہے جبکہ حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے