نوشہرو فیروز (کیو این این ورلڈ/ساجد مغل کی رپورٹ) نوشہرو فیروز کے نواحی علاقے مٹھیانی کے قریب گاؤں راوت خان مشہوری میں مبینہ مسلح حملے کے خلاف متاثرہ خاندان نے احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

گاؤں کے رہائشی ریٹائرڈ فوجی ذوالفقار علی مشہوری، تصور علی مشہوری، دریا خان مشہوری اور مسمات جمیلان نے بااثر افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بلاجواز ان کے گھر پر اسلحہ کے ساتھ حملہ کیا۔ مسمات جمیلان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور کلہاڑیاں، اینٹیں اور لاٹھیاں لے کر آئے اور فائرنگ بھی کی، جس سے گھر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ ان کے مطابق وہ اپنے بچوں سمیت جان بچانے کے لیے گھر سے نکلنے پر مجبور ہوئیں اور اب تک اہل خانہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ریٹائرڈ فوجی ذوالفقار علی مشہوری کا کہنا تھا کہ وہ کراچی میں سیکیورٹی ڈیوٹی پر موجود تھے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر گاؤں پہنچے۔ ان کے مطابق گھر پہنچنے پر بچے شدید خوفزدہ تھے، جبکہ ایک کمسن بچے کو دل کی تکلیف کے باعث ڈاکٹر کو دکھانا پڑا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے بچوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔

متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ واقعے کی این سی درج کرائی جا چکی ہے، تاہم پولیس کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اگر ان کے بچوں کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار محمد اسماعیل مشہوری عرف بابو، رجب مشہوری، اعجاز مشہوری، یوسف آصف اور دیگر نامزد افراد ہوں گے۔

متاثرین نے ایس ایس پی نوشہرو فیروز اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انصاف نہ ملا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے