اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے خلاف اپنے حقِ دفاع میں ضروری اقدامات جاری رکھے گا اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات مایوس کن ہیں۔ باجوڑ اور بنوں میں حالیہ حملوں کے بعد کی جانے والی پاکستانی کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود اور ہدفی نوعیت کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کابل میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہ پاکستان میں حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد حملوں کی تعداد کو ماضی یا چند ماہ پہلے کے اعداد و شمار سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستان کو درپیش خطرات کا مکمل ادراک ہے، صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور سکیورٹی فورسز ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے چوکس اور متحرک ہیں۔ ملکی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ادارے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود ہر پاکستانی شہری اور سفارت کار کو مکمل تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں افغان حکام کے ساتھ رابطہ اور تبادلہ خیال کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ پاکستانی سفارتی عملے کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد اور دیگر شہروں میں افغان سفارت کاروں کی سلامتی کو پاکستان انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، اسی ذمہ داری کے مظاہرے کی توقع افغان حکام سے بھی ہے۔

میڈیا بریفنگ میں ترجمان نے رواں ماہ سمجھوتہ ایکسپریس حملے کی 19ویں برسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سانحے میں 70 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں ملوث سوامی آسیم آنند اور بھارتی کرنل پروہت نے اعترافات کیے، تاہم مجرمان آج بھی آزاد ہیں اور بھارت انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملے کے بعد بھارتی ردعمل دراصل پاکستان کے مؤقف کی تصدیق ہے۔

ترجمان نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی اظہارِ تشویش کیا اور کہا کہ اسرائیلی اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کا ہنگامی وزارتی اجلاس 26 فروری سے جدہ میں ہو رہا ہے، جس میں اسرائیلی قابض حکام کے غیر قانونی فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار مقبوضہ مغربی کنارے سے متعلق اسرائیلی اقدامات پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور او آئی سی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے