ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ضلع ننکانہ صاحب میں محکمہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت خدمات انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ سپروائزرز (LHS) گزشتہ تین برس سے پی او ایل (پٹرول، آئل اینڈ لبریکنٹس) فنڈز کی عدم ادائیگی کا شکار ہیں، جس سے فیلڈ سرگرمیاں متاثر ہونے کا سنگین خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ضلع بھر میں تقریباً 26 لیڈی ہیلتھ سپروائزرز اور 17 کے قریب سرکاری گاڑیاں فیلڈ میں متحرک ہیں، تاہم تین سال سے پیٹرول اور دیگر سفری اخراجات کی مد میں فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔ متاثرہ عملے کا کہنا ہے کہ فیلڈ ڈیوٹی کے دوران سفری اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے نہ صرف مالی دباؤ بڑھ رہا ہے بلکہ پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔

محکمانہ ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آئی آر ایم این سی ایچ پروگرام ڈاکٹر عبید حسین کی مبینہ انتظامی غفلت کے باعث معاملہ حل طلب ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر بجٹ دستیاب نہیں تھا تو اعلیٰ حکام کو بروقت آگاہ کیوں نہ کیا گیا؟ اور اگر بجٹ موجود تھا تو تین برس تک پی او ایل فنڈز کیوں جاری نہ ہو سکے؟ اس مبینہ کوتاہی کی ذمہ داری کس افسر پر عائد ہوگی؟

صوبائی سطح پر صحت کے شعبے میں اصلاحات کے دعوؤں کے تناظر میں یہ معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے ہیلتھ سیکٹر میں بہتری کے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر اور سیکرٹری ہیلتھ نادیہ ثاقب کی قیادت میں محکمانہ کارکردگی بہتر بنانے کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم ننکانہ صاحب میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال ان دعوؤں کی مؤثر عملداری پر سوالیہ نشان بن رہی ہے۔

متاثرہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری اور شفاف نوٹس لے کر غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بطور ایڈمنسٹریٹر محکمہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ براہِ راست لیڈی ہیلتھ سپروائزرز سے ملاقات کریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملاقات ضلعی افسران کی موجودگی کے بغیر کی جائے تو کئی اہم حقائق اور ممکنہ انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔

متاثرہ عملے کا مؤقف ہے کہ تین سال تک فیلڈ میں خدمات انجام دینے والے عملے کو بنیادی اخراجات سے محروم رکھنا نہ صرف انتظامی ناکامی ہے بلکہ صحت عامہ کی خدمات کی فراہمی پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ متعلقہ حکام کب اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہیں اور مبینہ غفلت کے مرتکب افسران کا احتساب کب عمل میں لایا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے