باغی مفکر یا مصلح دین ؟ دو اسلام کا مصنف:ڈاکٹر غلام جیلانی برق
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی

ڈاکٹر غلام جیلانی برق بیسویں صدی کے اُن اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے برصغیر کے فکری منظرنامے پر گہرا اثر چھوڑا۔ 26 اکتوبر 1901ء کو ضلع کیمبل پور (موجودہ اٹک) کی تحصیل پنڈی گھیب کے گاؤں کنٹ میں پیدا ہونے والے برق نے ایک ایسے علمی سفر کا آغاز کیا جو آگے چل کر مذہبی، فکری اور تعلیمی مباحث میں نمایاں حوالہ بن گیا۔ وہ عالمِ دین، ماہرِ تعلیم، محقق، مترجم، ادیب اور شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، تاہم ان کی اصل پہچان ایک ایسے دانشور کی ہے جس نے مروجہ مذہبی افکار کو تنقیدی نگاہ سے پرکھنے کی جرأت کی۔

برق کا تعلق اعوان قبیلے کی معروف شاخ “صدکال” سے تھا۔ ان کے والد ملک محمد قاسم شاہ محکمہ مال میں پٹواری تھے اور انہوں نے اپنے تمام بچوں کو مذہبی اور عصری تعلیم دلوانے کا اہتمام کیا۔ خاندان میں علمی ذوق نمایاں تھا، ان کے دو بھائی مولوی نورالحق علوی اور پروفیسر غلام ربانی عزیز بھی علمی و دینی حلقوں میں معروف ہوئے۔ اس فضا نے غلام جیلانی برق کی فکری تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ابتدائی تعلیم گاؤں کے پرائمری سکول سے شروع ہوئی، جہاں ایک ہی استاد تمام جماعتوں کو پڑھاتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی۔ اورنگ آباد، پنڈی سرہال، چکوال اور لاہور کے مدارس میں زیرِ تعلیم رہنے کے دوران انہوں نے روایتی دینی نصاب کی تکمیل کی۔ 1919ء میں منشی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں انہوں نے عصری جامعات کا رخ کیا اور عربی و فارسی میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1940ء میں انہوں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی حیات و افکار پر انگریزی میں تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یہی مقالہ ان کی پہلی باقاعدہ تصنیف قرار دیا جاتا ہے، جس کا اردو ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر برق کی شہرت کا بڑا سبب ان کی وہ تحریریں بنیں جن میں انہوں نے برصغیر میں رائج بعض مذہبی تصورات اور روایات کا تنقیدی جائزہ لیا۔ ان کی کتابیں “دو قرآن” اور “دو اسلام” خاص طور پر موضوعِ بحث رہیں۔ ان تصانیف میں انہوں نے دین کی اصل روح کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے پر زور دیا اور ان عناصر پر سوال اٹھایا جنہیں وہ دین میں اضافے یا تحریف کا باعث سمجھتے تھے۔ ان کے اس اسلوب نے علمی حلقوں میں شدید ردِعمل کو جنم دیا۔ بعض علماء نے انہیں منکرِ حدیث قرار دیا، جبکہ دیگر اہلِ فکر نے ان کے کام کو اصلاحی کوشش کے طور پر دیکھا۔ یوں ان کی شخصیت اختلاف اور مکالمے، دونوں کا مرکز بن گئی۔

“دو اسلام” کے جواب میں متعدد کتب لکھی گئیں اور باقاعدہ مناظرانہ لٹریچر وجود میں آیا۔ اس علمی کشمکش نے اس دور کے مذہبی مباحث کو نئی جہت دی۔ بعد کے برسوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث رہا کہ آیا ڈاکٹر برق نے اپنی ابتدائی تصانیف سے رجوع کیا تھا یا نہیں۔ بعض حلقے ان کے خطوط اور بعد کی تحریروں کو رجوع کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، جبکہ دیگر اہلِ قلم اس دعوے کو حالات کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں بھی یہ بحث جاری رہی اور وفات کے بعد بھی مختلف کالم نگاروں اور محققین کے مابین اس موضوع پر اختلاف سامنے آتا رہا۔ تاہم اس امر پر عمومی اتفاق ہے کہ برق نے اپنے عہد کے فکری مباحث میں بھرپور اور جاندار کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر غلام جیلانی برق صرف مذہبی موضوعات تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے تاریخ، فلسفہ، سوانح، تصوف اور تہذیبی موضوعات پر بھی قلم اٹھایا۔ ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً چالیس کے قریب بتائی جاتی ہے۔ نمایاں کتابوں میں “فلسفیانِ اسلام”، “مؤرخینِ اسلام”، “حکمائے عالم”، “فرمانروایانِ اسلام”، “دانشِ رومی و سعدی”، “بھائی بھائی”، “ہم اور ہمارے اسلاف”، “یورپ پر اسلام کے احسان”، “من کی دنیا”، “جہانِ نو” اور “حرفِ محرمانہ” شامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعے “برقِ بے تاب” کو بھی ادبی حلقوں میں سراہا گیا۔ انہوں نے بعض اہم تاریخی کتب کے تراجم بھی کیے، جن میں “سلاطینِ اسلام” اور “معجم البلدان” قابلِ ذکر ہیں۔

تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستگی نے انہیں نوجوان نسل کے قریب رکھا۔ وہ ایک عرصے تک مجلہ “ترقی” اٹک (کیمبل پور) کے مدیر بھی رہے اور علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیتے رہے۔ ان کی تحریروں میں ایک طرف عقلی استدلال کی جھلک ملتی ہے تو دوسری طرف اصلاحِ معاشرہ کی خواہش بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

زندگی کے آخری ایام انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں گزارے۔ 12 مارچ 1985ء کو وہ اٹک میں انتقال کر گئے اور قبرستان عیدگاہ میں سپردِ خاک ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا نام علمی مباحث میں زندہ ہے۔ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی شخصیت کو محض اختلافی حوالوں سے نہیں بلکہ ایک ایسے مفکر کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے جس نے سوال اٹھانے، غور و فکر کرنے اور روایت کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھنے کا حوصلہ پیدا کیا۔ یہی پہلو انہیں برصغیر کی فکری تاریخ میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے