رینالہ خورد(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) تھانہ سٹی رینالہ خورد میں کرپشن، بدعنوانیوں اور لوٹ مار کے باعث چوری کے دو مقدمات کے مدعیوں کو تاحال انصاف نہ مل سکا، دونوں مدعی گزشتہ دو سال سے انصاف کے حصول کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ پولیس حکام کی جانب سے عوام کو انصاف کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوے تفتیشی افسران نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے ہیں، جس کے باعث آئی جی پنجاب، آر پی او ساہیوال اور ڈی پی او اوکاڑہ کے احکامات کھوکھلے نعرے ثابت ہو رہے ہیں اور تھانہ سٹی میں انصاف کا قتل عام جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق سال 2024 میں درج ہونے والے چوری کے مقدمات نمبری 706/24 اور 1718/24 کے مدعیان محمد عرفان اور تسلیم اپنے مقدمات کی بھرپور پیروی کے باوجود انصاف سے محروم ہیں۔ ان دونوں مقدمات میں ملوث گرفتار ملزم نعیم کی نہ تو باقاعدہ گرفتاری ڈالی گئی اور نہ ہی اس سے کوئی برآمدگی ممکن ہو سکی ہے، جبکہ مقدمہ نمبری 706 کے مدعی کو یہ کہہ کر ٹرخایا جا رہا ہے کہ ملزم کی گرفتاری ڈال دی گئی تھی لیکن مقدمے کی مثل گم ہو گئی ہے۔
متاثرہ مدعیان نے انصاف کے حصول کے لیے آر پی او اور ڈی پی او کو بھی درخواستیں گزاری ہیں لیکن تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انصاف نہ ملنے پر متاثرہ شہریوں محمد عرفان اور تسلیم نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور انہیں میرٹ پر انصاف فراہم کیا جائے۔

