اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال اور افغان شہریوں کے ملوث ہونے سے متعلق نئے اور سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ 16 فروری 2026 کو باجوڑ میں ملنگی پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کے دوران یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ حملہ آور افغان شہری تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کی شناخت احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی ہے، جو افغانستان کے صوبہ بلخ کا رہائشی اور افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا سابق کارندہ بھی رہ چکا ہے۔ یاد رہے کہ اس بزدلانہ حملے میں 11 سیکیورٹی اہلکار اور 2 معصوم شہری شہید ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی لہر کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں، جو افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی سرپرستی کا واضح ثبوت ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے متعدد حملوں، بشمول 6 فروری کو اسلام آباد ترلائی حملے، نومبر 2025 میں جوڈیشل کمپلیکس اور پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں کا تعلق بھی افغانستان سے پایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے 70 فیصد سے زائد واقعات میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دہشت گردوں کو پڑوسی ملک میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ سال ڈی آئی خان پولیس ٹریننگ سینٹر، وانا کیڈٹ کالج اور بنوں کینٹ پر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں کی گئی تھی۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کا یہ غیر منطقی طرز عمل اور دہشت گردوں کی پشت پناہی خطے میں امن کی کوششوں کو مسلسل سبوتاژ کر رہا ہے۔ ان ناقابل تردید شواہد نے عالمی سطح پر افغان سرزمین کے غلط استعمال کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو مزید تقویت دی ہے۔