واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں تعطل اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ” بحیرہ روم میں داخل ہو گیا ہے۔ بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق، یہ کیریئر اسٹرائیک گروپ اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکی بحری بیڑہ تیزی سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔
امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے اس اسٹرائیک گروپ کو خطے کی جانب روانہ کرنے کا حکم دیا تھا، جس کا مقصد ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔ امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار جہاز کو مشرقِ وسطیٰ پہنچنے میں مزید چند دن لگیں گے، جس کے بعد یہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ آپریشن کے لیے مکمل الرٹ حالت میں موجود ہوگا۔ حالیہ دنوں میں خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر اس تعیناتی کو دفاعی ماہرین انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کے عرشے سے ایف/اے-18 ایف سپر ہارنیٹ طیاروں کی پروازیں دکھائی گئی ہیں، جو امریکی بحریہ کی اعلیٰ آپریشنل تیاریوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایک طرف جہاں دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے، وہیں دوسری طرف اس عسکری نقل و حرکت نے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے کر دیے ہیں۔
