پشاور (کیو این این ورلڈ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور صوبائی حکومت عدلیہ کا مکمل احترام کرتی ہے، اسی تناظر میں صوابی انٹرچینج پر جاری احتجاجی دھرنا رضاکارانہ طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم، دھرنا ختم ہوتے ہی خیبر پختونخوا پولیس میں بڑے پیمانے پر ہونے والے تبادلوں نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور اسے دھرنا ختم کرانے کی کارروائی کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، صوابی موٹروے پر دھرنے کے خاتمے کے فوری بعد ڈی پی او صوابی ضیاء الدین کو ان کے عہدے سے تبدیل کر کے ڈی آئی خان تعینات کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تبادلہ دھرنے کے مقام پر پولیس کارروائی کے "آفٹر شاکس” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ گزشتہ روز پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کارکنان کو منتشر کیا تھا جس میں ڈی پی او صوابی اور دیگر افسران ہراول دستے میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایس ایس پی پشاور کو بھی تبدیل کر کے باجوڑ بھیج دیا گیا ہے۔

اگرچہ پولیس حکام ان تبادلوں کو معمول کی انتظامی کارروائی قرار دے رہے ہیں، لیکن سیاسی مبصرین اس پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت اسے رضاکارانہ طور پر دھرنا ختم کرنا قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ان افسران کی تبدیلی جنہوں نے دھرنا ختم کرنے میں فعال کردار ادا کیا، تضاد کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان تبادلوں نے انتظامی امور میں سیاسی مداخلت کے تاثر کو مزید تقویت دی ہے، جس پر تاحال صوبائی حکومت کا کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے