مادری زبانیں فطرت کا عظیم عطیہ اور انسانی شعور کی کلید
تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاہر جلالوی

altafkhandahir@gmail.com

مادری زبانیں کسی بھی قوم کی شناخت، اس کے تہذیبی ورثے اور نفسیاتی نشوونما میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ 21 فروری "مادری زبانوں کے عالمی دن” کے حوالے سے معروف محقق اور کالم نگار ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی نے ایک مفصل اور فکر انگیز مقالہ تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے مادری زبانوں کی اہمیت، سرائیکی زبان کی تاریخی قدامت اور نوآبادیاتی نظام کے اثرات کا علمی احاطہ کیا ہے۔ موضوع کی وسعت اور اہمیت کے پیشِ نظر یہ مقالہ تین اقساط میں قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔ آج اس سلسلے کی پہلی قسط ملاحظہ فرمائیں

مادری زبان کی اہمیت اور پس منظر

رب العزت جلال نے انسان کو افضل ترین اور خوبصورت تخلیق کا درجہ دیا ہے۔آدمی کی فضیلت کا راز لسان ہے۔ہر انسان آپنی چھپی ہوئی باتوں، عرفان وحکمت، روحانیت و وجدان، جذبات و احساسات کو ایک آدمی سے دوسرے تک پہنچانے میں زبان کا سہارا لیتا ہے۔اب جس طرح ایک کمزور بچہ خوف و ڈر میں روتے ہوئے ماں کو پکارتاہے، ماں کی گود میں تحفظ محسوس کرتاہے، اسی طرح کامیاب انسان ماں بولی میں آسان گفتگو ،ادب و حکمت سے پوری کائنات تسخیر کرتاہے۔مادری زبان شاندار عطیہ خداوندی ہے۔پھول میں خوشبو نہ ہو، پھل میں رس نہ ہو،دریا میں موج نہ ہو، سمندر میں شور نہ ہو،فضاء میں پرندوں کی چہچہاہٹ نہ ہو تو فطرت میں کمی سی محسوس ہونے لگتی ہے،اسی طرح اگر انسان بھی لسان کے بغیر بالکل ادھورا ہے۔ماں کے بغیر کائنات گم،ماں بولی کے بغیر کائنات کی ہر خوبصورتی پر گرہن سا نظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔تمام رنگ کہکشاں کے مادری زبانوں کی خوبصورتی و اظہار کے محتاج ہیں۔مختلف انسانوں کے رنگ و نسل،زبانیں اور ثقافتیں امن ومحبت اور تصوف کی مضبوط ترین بنیادیں ہیں۔

21 فروری کو "مادری زبانوں کے عالمی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد دنیا بھر میں مختلف زبانوں کی اہمیت،افادیت اور تحفظ کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے۔خاص طور پر دنیا کی ان کی کمزور زبانوں کے وجود کی حفاظت کرنا ہے،جوخطرے میں ہیں۔اس دن کی بنیاد 1999ء میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارے یونیسکو (UNESCO) نے رکھی تھی۔تاکہ زبانوں کی تنوع،علم وادب،عرفان وحکمت،روحانیت اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی جاسکے۔ماہرین لسانیات کے مطابق مادری زبان ایک فرد کی وہ زبان ہوتی ہے،جسے اس نے بچپن میں اپنے والدین یا قریبی لوگوں سے سیکھا ہو۔اور جو اُس کی روح،ثقافت،وجدان،شعور،تہذیب وتمدن اور شناخت کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔مادری زبان کا تحفظ اس بات کی ضمانت ہے کہ قدیم انسانی نسل در نسل والدین کی دانش،اعلی اخلاق،تعلیم وتربیت،رسوم رواج،ادب،ثقافتی ورثہ اور تاریخ محفوظ رہیں گے۔21 فروری کو اس دن کا تعین اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ 1952 میں بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) کے دارالحکومت ڈھاکہ میں حکومت کے ذریعے بنگالی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر تسلیم نہ کیے جانے پر طلباء نے احتجاج کیا تھا۔جس میں پولیس کی فائرنگ سے کئی افراد شہید ہوگئے تھے۔اس واقعے کی یاد میں 21 فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منانے کی شروعات ہوئی۔اس دن کا مرکزی مقصد مادری زبانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

کلچر اگر ایک جسم ہے تو اس کی روح روشنی زبان ہی ہوتی ہے۔ماں کا احترام دنیا کے ہر مذہب کا خوبصورت فلسفہ ہے۔انسانوں کی مختلف زبانیں،ثقافتیں اور روایات خوبصورت رنگ برنگے پھولوں کی مانند ہیں۔جس سے آپس میں امن و رواداری، اتحاد ویکجہتی،تصوف اور محبت و خلوص کی خوشبو مہکتی ہے۔کائنات کے خالق حقیقی رب العزت جلال کریم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے عملی مثالی کردار والے ہر عہد میں برگزیدہ انبیاء کرام علیہم السلام اجمعین کو ان کی مادری زبانوں میں تبلیغ کی اجازت فرمائی۔ جاری ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے