اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کی مرکزی آبی گزرگاہ عباسیہ کینال، جسے ‘ابو ظہبی نہر’ بھی کہا جاتا ہے، اس وقت سنگین ماحولیاتی اور صحتِ عامہ کے بحران کی لپیٹ میں ہے۔ نہر کے دونوں اطراف سرکاری اراضی پر مبینہ طور پر قائم غیر قانونی باڑوں کے مالکان جانوروں کا گوبر، فضلہ اور گھریلو کچرا براہِ راست نہر میں پھینک رہے ہیں، جس کے باعث جگہ جگہ گندگی کے انبار لگ چکے ہیں اور اٹھنے والے تعفن نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہی نہر چولستان کے وسیع علاقوں کو پینے اور روزمرہ استعمال کے لیے پانی فراہم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ حیوانی فضلہ پانی میں شامل ہونے سے خطرناک بیکٹیریا پیدا ہو رہے ہیں، جو ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدی امراض کے تیزی سے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد کی زندگیوں کو داؤ پر لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

مقامی سماجی تنظیموں اور شہری نمائندوں کا الزام ہے کہ تحصیل انتظامیہ اور محکمہ انہار کو متعدد بار تحریری شکایات کی جا چکی ہیں، مگر بااثر عناصر کے خلاف تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ شہریوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے نہ صرف قومی اثاثے پر قبضہ کیا گیا ہے بلکہ اسے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر کے پورے علاقے کی آب و ہوا کو زہریلا بنایا جا رہا ہے، جو کہ ماحولیاتی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور محکمہ ماحولیات سے مطالبہ کیا ہے کہ نہر کے کناروں سے غیر قانونی باڑوں کا فوری خاتمہ کیا جائے اور پانی کے معیار کا لیبارٹری ٹیسٹ کرایا جائے۔ عوامی حلقوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر صاف پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو وہ اس مسئلے کو اعلیٰ ایوانوں تک لے کر جائیں گے، کیونکہ یہ انسانی زندگیوں اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کا معاملہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے