سکھر: 8 افراد کے قتل کے ملزمان کی عدم گرفتاری پر متاثرہ خاندان کا پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر ( کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار مشتاق علی لغاری) شکارپور کے گاؤں الہ رکھیو سندراڻي کے کلمہ گو متاثرہ خاندانوں نے آٹھ افراد کے ہولناک قتل میں ملوث نامزد ملزمان کی عدم گرفتاری اور مقامی پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف سکھر نیشنل پریس کلب کے سامنے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں مردوں، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے انصاف کے لیے دہائی دی۔

مظاہرے کے دوران شاہ علی سندرانی، اصغر سندرانی، حبیبہ سندرانی، نواب خاتون اور بصراں خاتون نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایک سال قبل مسلح افراد نے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کے دوران فائرنگ کر کے علی حسن، اکبر، پیارو اور صدام حسین سندرانی کو بیدردی سے قتل کر دیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس لرزہ خیز واقعے کے بعد علاقے کے معززین کی موجودگی میں ایک جرگہ منعقد ہوا، جس میں ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 1 کروڑ 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، تاہم بعد میں صلح اور مقدمات سے دستبرداری کے بہانے بلا کر ان کے خاندان کے مزید چار افراد نظام الدین، نور محمد، آدم سندرانی اور ایک اور شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، جس سے مقتولین کی کل تعداد 8 ہو گئی۔

مظاہرین نے سنگین الزام لگایا کہ سنگین مقدمات درج ہونے کے باوجود نامزد قاتل کھلے عام گھوم رہے ہیں جبکہ پولیس انہیں گرفتار کرنے کے بجائے مبینہ طور پر تحفظ اور سہولت فراہم کر رہی ہے، طاقتور سیاسی اثر و رسوخ کے باعث غریب متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

مظاہرے میں شریک خواتین اور بزرگوں کا کہنا تھا کہ انصاف دینے کے بجائے چند روز قبل کوٹ سلطان پولیس نے گاؤں میں وحشیانہ کارروائی کی، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور قیمتی سامان، سونا، زیورات، اناج، نقدی سمیت متعدد مویشی بھی زبردستی اپنے ساتھ لے گئے، جس سے معصوم بچوں اور خواتین میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ آٹھ بے گناہ افراد کے قتل میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے اور پولیس کے مبینہ متعصبانہ کردار کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر انصاف نہ ملا تو احتجاج کا دائرہ کار پورے سندھ تک پھیلا دیا جائے گا۔

خبر کے حوالے سے اہم نوٹ:

خبر میں شامل تمام الزامات احتجاجی مظاہرین کے دعووں پر مبنی ہیں، جن کا متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنے پر شامل کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے