جکارتہ (کیو این این ورلڈ): انڈونیشیا کے ساحل کے قریب 7.7 شدت کے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ زلزلے کے بعد کئی آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جن میں ایک کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی۔
زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 58 منٹ پر آیا۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس کی گہرائی تقریباً 15 کلومیٹر تھی۔ شدید جھٹکوں کے بعد انڈونیشیا کی جیو فزکس ایجنسی نے ابتدائی طور پر سونامی کی وارننگ جاری کی، تاہم تقریباً تین گھنٹے بعد سونامی کا خطرہ ختم ہونے پر وارننگ واپس لے لی گئی۔
آسٹریلیا کے سونامی وارننگ سینٹر نے بھی تصدیق کی کہ سمندر میں آنے والے اس زلزلے کے باعث آسٹریلوی سرزمین، جزائر یا دیگر علاقوں کو سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
زلزلے سے جزیرۂ فلورس کے مرکزی شہر ماؤمیرے میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آگئے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر تباہ شدہ عمارتوں میں پھنسے افراد کو تلاش اور ریسکیو کرنے میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق دور افتادہ اور پہاڑی علاقوں میں ہونے والے نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
ماؤمیرے کی بندرگاہ سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ ٹرمینل کی عمارت سے کنکریٹ کے بڑے ٹکڑے ٹوٹ کر اس مقام پر گرے جہاں مسافر بین الجزائر فیری پر سوار ہونے کے لیے موجود تھے۔ فیری تک پہنچنے والا راستہ منہدم ہونے کے باعث بعض افراد کے سمندر میں گرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
انڈونیشیا کی قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق امدادی کارروائیوں میں عوام کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ آفٹر شاکس اور دیگر ممکنہ خطرات کے پیش نظر مزید جانی نقصان روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو پرسکون رہنے، ساحلی علاقوں سے دور رہنے اور متاثرہ یا خستہ حال عمارتوں میں داخل نہ ہونے کی ہدایت کی ہے، خصوصاً ان عمارتوں سے گریز کرنے کا کہا گیا ہے جن میں زلزلے کے باعث دراڑیں پڑ چکی ہیں یا ساخت کو نقصان پہنچا ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور مالی نقصانات کی درست تعداد معلوم کرنے کے لیے فوری جائزہ جاری ہے۔ حکام کے مطابق معلومات کی تصدیق کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔