موبائل سروس کا بحران: 5G کے خواب، 2G کے عذاب

5G کی پبلسٹی، مہنگے پیکیج… 2G سروس بھی غائب
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی

آج کل ٹیلی ویژن کی سکرینوں، سوشل میڈیا کی رنگین فیڈز اور شاہراہوں پر لگے بڑے بڑے بل بورڈز کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے پاکستان راتوں رات ترقی کے کسی الگ ہی سیارے پر پہنچ چکا ہے۔ "اب تیز تر، اب بہتر، اب مستقبل” جیسے مسحور کن نعروں اور 5G کے زرق برق اشتہارات کی بھرمار ہے۔ کمپنیاں روزانہ ایک نیا نعرہ تراشتی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ ہمیں جدید ترین دنیا سے جوڑ رہی ہیں، مگر حقیقت کی تلخی یہ ہے کہ پاکستان کا عام صارف آج بھی 2G کے تاریک دور میں دھکیلا جا چکا ہے۔

ایک عام شہری مہنگے داموں پیکیج خریدتا ہے، اپنی سخت محنت کی کمائی ان کمپنیوں کی نذر کرتا ہے، مگر بدلے میں اسے کیا ملتا ہے؟ ڈراپ ہوتی ہوئی کالز، غائب ہوتا انٹرنیٹ اور ایک ایسا سگنل بار جو صرف نام کا رہ گیا ہے۔ ویڈیو کال تو دور کی بات، اپنے کسی پیارے کو واٹس ایپ پر ایک سادہ سا پیغام بھیجنے کے لیے بھی موبائل فون ہاتھ میں لیے کھڑکیوں اور چھتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ یہ محض ایک تکنیکی خرابی نہیں، بلکہ ہر دوسرے شہری کے جذبات اور عزتِ نفس کے ساتھ کھلم کھلا مذاق ہے۔

پی ٹی اے کے کوالٹی آف سروس سروے کے سرکاری اعداد و شمار خود پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ کوئی ایک کمپنی بھی معیار پر پوری نہیں اتر رہی۔ لیکن کاغذوں کی حد تک بننے والی ان رپورٹس اور عوامی زندگی کی تلخ حقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لوگ بجا طور پر کہتے ہیں کہ یہ سرکاری سروے شاید افسران کے ایئر کنڈیشنڈ دفاتر یا چند مخصوص سڑکوں تک محدود ہوتے ہیں، ورنہ چھوٹے شہروں، قصبوں، دیہاتوں اور یہاں تک کہ بڑے شہروں کے درمیانی علاقوں میں بھی موبائل نیٹ ورک کا جنازہ نکل چکا ہے۔

روزانہ کروڑوں صارفین کا غصہ سوشل میڈیا کی دیواروں پر سسکتا نظر آتا ہے۔ کوئی لُٹ جانے کی دہائی دے رہا ہے تو کوئی بغیر استعمال کیے بیلنس غائب ہونے پر خون کے آنسو رو رہا ہے۔ 100 جی بی کے پیکیج کی قیمتیں دیکھتے ہی دیکھتے آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، مگر سروس کی کیفیت یہ ہے کہ اسپتالوں میں مریض ڈاکٹروں کو فون کرنے سے قاصر ہیں، یونیورسٹیوں میں طلبہ تحقیقی مواد سے محروم ہیں اور چھوٹا تاجر اپنے گاہک سے رابطہ نہ ہونے کے باعث معاشی طور پر تباہ ہو رہا ہے۔

ٹاورز سے سامان چوری ہونے یا بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا عذر تراش کر کمپنیاں اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتیں۔ صارف نے اگر پورا بل ادا کیا ہے تو اسے ادھوری سروس کیوں دی جائے؟ اربوں روپے کے کاغذی جرمانے اور شوکاز نوٹسز بھی اب ایک ڈراما محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ وصولی کچھ نہیں ہوتی اور کمپنیاں بلا خوف و خطر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتی رہتی ہیں۔

5G کی نیلامی اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے ڈھنڈورے کس کے لیے پیٹے جا رہے ہیں؟ جب عام شہری 4G کی بنیادی رفتار کو ترس رہا ہو تو 5G کے خواب بیچنا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

حکمرانوں اور ریگولیٹری اداروں کو اب یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ انٹرنیٹ اور موبائل مواصلات اب کوئی عیاشی یا لاٹری نہیں، بلکہ سانس لینے جتنی بنیادی انسانی ضرورت بن چکے ہیں۔ جب تک کاغذی جرمانوں کی بجائے سخت اور عملی اقدامات نہیں کیے جائیں گے، عوام یونہی لٹتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ 5G کے جھوٹے خواب بیچنا بند کیے جائیں اور پہلے سے موجود بنیادی سروس کو درست کیا جائے۔ اگر کمپنیاں اربوں روپے کا منافع کما سکتی ہیں تو عوام کو معیاری سروس فراہم کرنا بھی ان کا فرض ہے۔ حکومت اور پی ٹی اے کو اب کمپنیوں کے ترجمان کے بجائے عوام کا محافظ بننا ہوگا، ورنہ یاد رکھیے، جب عوام کا نظام سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے تو اسے اشتہارات کی چمک دھمک سے دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے