پاکستان میں خطے کے تقریباً نصف انتہائی غریب آباد، غربت میں 6.4 فیصد اضافہ: عالمی بینک کی رپورٹ

عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ “Middle East, North Africa, Afghanistan and Pakistan Economic Update, October 2026: From Divide to Opportunity – AI, Jobs, and Growth” میں انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) خطے کے انتہائی غریب افراد میں سے تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں اور ان کی یومیہ آمدنی مقررہ خطِ غربت 3 ڈالر یعنی تقریباً 840 روپے سے بھی کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان، شام اور یمن مل کر خطے کے مزید 47 فیصد انتہائی غریب افراد کا حامل ہیں، یعنی یہ چار ممالک اکٹھے خطے کے تقریباً 95 فیصد انتہائی غریب آبادی پر مشتمل ہیں۔

2018-19 سے 2024-25 کے دوران پاکستان میں 3 ڈالر یومیہ کی سطح پر غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا جبکہ 4.20 ڈالر والی سطح پر یہ اضافہ 3.2 فیصد پوائنٹس رہا۔ خطے میں غربت میں اضافے کی بنیادی وجہ پاکستان میں غربت کا بڑھنا بتایا گیا ہے۔

2024 میں MENAAP خطے کی 14.3 فیصد آبادی 3 ڈالر یومیہ سے کم پر گزارہ کر رہی تھی جبکہ عالمی اوسط 10.4 فیصد تھی، اور 4.20 ڈالر کی سطح پر یہ شرح 26.9 فیصد تھی جبکہ عالمی اوسط 18.9 فیصد رہی۔ یہ خطہ دنیا کے انتہائی غریب افراد کا 14 فیصد حصہ رکھتا ہے جو سب صحارا افریقہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ MENAAP دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت وبا سے پہلے کی سطح سے اب بھی اوپر ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔

عالمی بینک کے مطابق پاکستان کو مسلسل منفی معاشی جھٹکوں کا سامنا رہا جن میں کورونا وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، معاشی بحران کے ساتھ ہوشربا مہنگائی اور روپے کی قدر میں گراوٹ کے ساتھ طویل معاشی اصلاحات شامل ہیں جن کے نتیجے میں حقیقی گھریلو آمدنی میں کمی آئی، روزگار کے مواقع کم ہوئے اور غربت بڑھ گئی۔

فروری 2026 میں شروع ہونے والے خلیج فارس کے تنازع نے بھی خطے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں جس کے بعد سے پاکستان، لبنان، شام اور متحدہ عرب امارات میں پٹرول کی قیمتوں میں 40 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں پاکستان میں 40 فیصد سے زائد، لبنان میں تقریباً 80 فیصد اور متحدہ عرب امارات میں 70 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔

تیل درآمد کرنے والے ممالک بشمول پاکستان کو مہنگائی، مالیاتی گنجائش میں کمی اور قرض لینے کی لاگت میں اضافے کا سامنا ہے جبکہ خلیجی معیشتوں سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں کمی اور انشورنس کے اخراجات میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کی جی ڈی پی نمو کی پیش گوئی کی گئی ہے کہ مالی سال 2024-25 میں 3.2 فیصد سے بڑھ کر 2025-26 میں 3.7 فیصد اور 2026-27 میں 3.8 فیصد رہ سکتی ہے تاہم فی کس آمدنی میں اضافہ محدود رہے گا اور غربت کے منفی رجحانات 2026 تک جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کا نجی شعبہ ابھی تک ابھرتی ہوئی معاشی ضروریات اور مصنوعی ذہانت جیسے مواقع کے مطابق خود کو مکمل طور پر ڈھال نہیں سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے