21 گھنٹے کا امن مشن اور دہائیوں کی دشمنی
تحریر: تصیب شاہ شنواری
ایسے حساس حالات میں جب خلیجی خطہ شدید کشیدگی اور ممکنہ بڑی عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا اور پوری دنیا میں خوف و ہراس کی فضا قائم تھی، پاکستان ایک مضبوط اور بااعتماد ثالث کے طور پر ابھرا۔ پاکستان نے ایران اور امریکہ جیسے روایتی حریفوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں وہ کلیدی کردار ادا کیا جس کی توقع عالمی برادری شاید کسی اور ملک سے نہیں کر رہی تھی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق 8 اپریل کو پاکستان کی انتھک کوششوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان وہ جنگ بندی ممکن ہوئی جس نے نہ صرف خطے میں جاری تصادم کو روکا بلکہ اب تک اس جنگ بندی کا برقرار رہنا پاکستان کی سفارتی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عالمی تجزیہ نگار اس پیش رفت کو ایک معجزے سے تعبیر کر رہے ہیں کیونکہ اگر یہ جنگ پھیل جاتی تو اس کے تباہ کن اثرات صرف خلیج تک محدود نہ رہتے بلکہ عالمی معیشت اور سکیورٹی کا ڈھانچہ بھی بکھر کر رہ جاتا۔ ایک ماہ سے جاری اس جنگ نے پہلے ہی ایشیا، امریکہ، کینیڈا اور یورپ کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جہاں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
پاکستان کی ان مخلصانہ سفارتی کوششوں کا تسلسل 11 اپریل کو اس وقت دیکھنے میں آیا جب اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی امن مذاکرات منعقد ہوئے۔ ان مذاکرات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کے ساتھ ساتھ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اس میں شرکت کی۔ یہ مذاکرات مسلسل 21 گھنٹے تک جاری رہے، اگرچہ امریکی نائب صدر کی واپسی پر بعض حلقوں نے کسی حتمی دستخط شدہ معاہدے کے سامنے نہ آنے پر اسے ناکامی سے تعبیر کیا، لیکن سفارتی تاریخ اور باریکیوں کو سمجھنے والے ماہرین اس رائے سے قطعی اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک پاکستان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے دہائیوں سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے دو ممالک کو ایک ہی میز پر لا بٹھایا اور وہ بھی پاکستان کی سرزمین پر، جو کہ ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں 1979 کے ایرانی انقلاب سے جڑی ہیں اور یہ چالیس سالہ پرانی دشمنی صرف 21 گھنٹوں کے مذاکرات میں مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکتی۔ ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی حساس سکیورٹی، علاقائی اثر و رسوخ اور دونوں اطراف سے ہونے والے نقصانات جیسے پیچیدہ معاملات کے حل کے لیے طویل اور صبر آزما سفارت کاری درکار ہوتی ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے ہونے والی جنگ بندی اب بھی قائم ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریقین کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر پاکستان یہ ابتدائی قدم نہ اٹھاتا تو آج دنیا ایک بڑی جنگ کے شعلوں میں گھری ہوتی۔
پاکستان کی ان کوششوں کو عالمی سطح پر بھرپور پزیرائی ملی ہے اور خود امریکی صدر نے اپنے حالیہ بیان میں پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے مصالحانہ کردار کو سراہا ہے۔ یہ اعتراف ان ناقدین کے لیے واضح جواب ہے جو اس عمل پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں۔ تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو کوئی بھی بڑا عالمی امن معاہدہ دنوں یا گھنٹوں میں طے نہیں پایا۔ مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے لیے 14 ماہ کی تیاری اور 13 دن کے کٹھن مذاکرات درکار تھے، جبکہ اوسلو معاہدے سے قبل 8 ماہ تک خفیہ بات چیت کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی طرح ایران جوہری معاہدہ 20 ماہ، ابراہیم معاہدے کئی برس اور افغانستان میں دو دہائیوں کی جنگ کا خاتمہ کرنے والا دوحہ معاہدہ 8 سالہ پسِ پردہ روابط اور ایک سال کے باضابطہ مذاکرات کے بعد ممکن ہوا۔ لبنان کی خانہ جنگی ختم کرنے والے طائف معاہدے میں بھی 7 سال کا طویل عرصہ لگا۔
ان تمام تاریخی مثالوں کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے 21 گھنٹے کے مذاکرات دراصل ایک طویل اور پائیدار امن کے سفر کا پہلا اور اہم ترین سنگ میل ہیں۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عالمی امن کے لیے ایک ذمہ دار اور باصلاحیت ملک ہے جس نے نہ صرف جنگ کو روکا بلکہ دنیا کو ایک بڑے معاشی اور دفاعی بحران سے بچا لیا۔ 8 اپریل کی جنگ بندی اور پھر 11 اپریل کو دونوں مخالف قوتوں کو ایک چھت تلے اکٹھا کرنا پاکستان کی وہ سفارتی فتح ہے جس پر آج پوری دنیا حیران ہے اور اب مستقبل میں مزید مثبت پیش رفت کی امیدیں روشن ہو چکی ہیں۔