ڈبلیو ای ایف کا پاکستان میں انتظامی اصلاحات پر تجزیہ، 16 سے 30 یونٹس کی تجاویز

اسلام آباد(کیو این این ورلڈ)ورلڈ اکنامک فورم کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک تجزیے میں پاکستان میں موجودہ چار صوبوں کی بجائے 16 نئے صوبوں یا 23 سے 25 انتظامی اکائیوں کی تشکیل کی مشروط حمایت کی گئی ہے۔ تجزیہ نگار میرو سلاو زفیروف نے لکھا ہے کہ پاکستان کی آبادی 1951 کے بعد سات گنا سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے جبکہ ملک اب بھی انہی چار بڑے صوبوں کے انتظامی ڈھانچے پر چل رہا ہے۔ پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ ہے جبکہ بلوچستان کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے کم ہے۔ اس فرق کے باعث ایک ہی صوبائی حکومت کو بہت مختلف آبادی اور انتظامی ضروریات والے علاقوں کو سنبھالنا پڑتا ہے جس سے سرکاری خدمات کمزور پڑتی ہیں۔

تجزیے کے مطابق نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل سے حکومت عوام کے قریب آ سکتی ہے، سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر ہو سکتی ہے اور ملک بھر میں مالی و سیاسی جوابدہی مضبوط بنائی جا سکتی ہے۔ مقصد صرف انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، بہتر عوامی خدمات اور مضبوط جوابدہی ہونا چاہیے۔ فورم نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کو مناسب اور یقینی مالی وسائل، ٹیکس وصولی کے اختیارات، مضبوط انتظامی صلاحیت اور واضح ذمہ داریاں دینا ضروری ہوگا۔ صوبائی سطح پر اپنی آمدنی کا حصہ بہت کم ہے اور 2024-25 میں صوبائی ٹیکسز صرف 983 ارب روپے رہے جو مجموعی قومی پیداوار کا ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

تجزیے میں تین ممکنہ ماڈلز پیش کیے گئے ہیں۔ پہلے ماڈل میں موجودہ ہر صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کر کے 16 پہلی سطح کی حکومتیں بنائی جا سکتی ہیں جس سے فی اکائی اوسط آبادی چھ کروڑ سے کم ہو کر تقریباً ڈیڑھ کروڑ رہ جائے گی۔ دوسرے ماڈل میں آبادی کے توازن یا جغرافیائی ہم آہنگی کی بنیاد پر 23 سے 25 اکائیاں قائم کی جا سکتی ہیں۔ تیسرے ماڈل میں موجودہ سول ڈویژنز کی بنیاد پر تیس سے زائد یونٹس بنائے جا سکتے ہیں تاکہ اوسط آبادی انڈونیشیا، نائجیریا اور برازیل جیسے ممالک کے قریب آ جائے۔ ان ممالک میں پہلی سطح کی اکائیوں کی اوسط آبادی چھ سے آٹھ ملین کے درمیان ہے۔

تجزیے میں تعلیم کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پانچ سے سولہ سال کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 45 فیصد تک ہے۔ اٹھارویں ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو زیادہ وسائل اور اختیارات دیے گئے لیکن فیصلہ سازی اب بھی بہت سے علاقوں سے دور ہے۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ نئی حدود بنانا کافی نہیں بلکہ مالیاتی صلاحیت، شفاف فنڈز کی منتقلی، قابل اعتماد ڈیٹا اور واضح جوابدہی ضروری ہے ورنہ نئی اکائیاں بھی کمزور رہ سکتی ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کی اصل تحریر کا لنک یہ ہے:
https://www.weforum.org/stories/geographies-in-depth/pakistan-administrative-reform-fast-growing-populations/

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے