ادب کے سفر میں فاصلے قدموں سے نہیں، اخلاص سے طے ہوتے ہیں

جب ایک کتاب سے ایک ادبی کارواں نے جنم لیا
تحریر: منور شاہ منور
بعض اوقات تاریخ کے بڑے واقعات کسی بڑے منصوبے، وسیع وسائل یا بلند بانگ اعلانات سے جنم نہیں لیتے، بلکہ ایک چھوٹی سی محفل، ایک کتاب اور چند ہم خیال دلوں کی مخلصانہ گفتگو سے ایک ایسی روایت جنم لے لیتی ہے جو آگے چل کر کئی چراغ روشن کرنے کا سبب بنتی ہے۔

11 ستمبر 2026ء کی شام بھی پشاور کی ادبی فضا میں ایسی ہی ایک یادگار شام تھی، جب ابدال سکندری ادبی کاروان (اساک) کے زیرِ اہتمام تقریبِ تقسیمِ ایوارڈ و گولڈ میڈل، محترم بلال سکندری کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ بظاہر یہ ایک اعزازی تقریب تھی، مگر اس کے پس منظر میں ایک پوری ادبی داستان سانس لے رہی تھی؛ ایسی داستان جس کا آغاز ابھی چند ماہ قبل ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی سے ہوا تھا۔

یہاں سے ذرا پیچھے چلتے ہیں۔

10 جولائی 2026ء کو فیاض علی فیاض کی کتاب ”خدائی خدمت گار سید عاشق شاہ باچا“ منظرِ عام پر آئی تو چند ہم خیال اور ادب دوست احباب نے اس کتاب کی تقریبِ رونمائی کا اہتمام محترم بلال سکندری کی رہائش گاہ پر کیا۔ یہ ایک معمولی سی ادبی نشست محسوس ہوتی تھی، مگر شاید وقت کو معلوم تھا کہ یہی نشست مستقبل میں ایک نئے ادبی سفر کا نقطۂ آغاز بننے والی ہے۔

تقریب کے بعد ہونے والی گفتگو اور باہمی مشاورت نے ایک خیال کو جنم دیا:

کیوں نہ ایک ایسا ادبی پلیٹ فارم قائم کیا جائے جہاں اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی ہو، ادبی خدمات کو سراہا جائے، شعراء و ادباء کو عزت دی جائے اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد کے لیے بھی پذیرائی کے دروازے کھولے جائیں؟

یہ سوال محض سوال نہ رہا۔ اس پر عمل ہوا اور یوں ابدال سکندری ادبی کاروان (اساک) نے جنم لیا۔

اساک کا قیام کسی بڑے سرمائے، سرکاری سرپرستی یا تجارتی مفاد کے تحت نہیں ہوا۔ یہ چند ادب دوست انسانوں کی محبت، اخلاص، باہمی اعتماد اور اپنی مدد آپ کے جذبے سے وجود میں آنے والا ادبی کاروان ہے۔ شاید اسی لیے اس کے مختصر سے سفر میں بھی ایک خاص اپنائیت اور خلوص محسوس ہوتا ہے۔

10 جولائی کی وہ نشست اساک کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد یہ سفر رکا نہیں۔ آج، 11 ستمبر کو، اساک کا تیسرا شاندار پروگرام اس بات کا گواہ ہے کہ اگر نیت میں اخلاص اور مقصد میں ادب کی خدمت ہو تو مختصر وقت بھی ایک مضبوط روایت کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

11 ستمبر 2026ء کی تقریب اسی سفر کا ایک روشن باب تھی۔

تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی۔ تقریب کا آغاز نامور شاعر، ادیب اور مصنف محترم نمروز قیس صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض خوش اسلوبی سے بیدار مغز شاعر و ادیب محترم فیاض علی فیاض نے انجام دیے۔ تقریب کی صدارت اساک کے صدر پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان سیماب نے کی۔

پہلے حصے میں اردو ادب کی ممتاز ادیبہ و شاعرہ، پرائیڈ آف پرفارمنس اور کاروانِ حوا لٹریری فورم کی چیئرپرسن محترمہ بشریٰ فرخ کو ان کی طویل اور گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا گیا۔

اسی موقع پر ان کی صاحبزادی، نعت خواں، سفرنامہ نگار اور کاروانِ حوا کی سوشل میڈیا کوآرڈینیٹر تابندہ فرخ کو ان کے تیسرے سفرنامے ”حصارِ عشق“ پر گولڈ میڈل اور سرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا۔

محترمہ تابندہ فرخ نے اپنی والدہ محترمہ بشریٰ فرخ کی لکھی ہوئی نعت پیش کی تو محفل پر ایک روحانی کیفیت طاری ہوگئی اور انہیں حاضرین کی جانب سے بھرپور داد ملی۔

محترمہ بشریٰ فرخ کے فن، شخصیت اور ادبی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر پروفیسر ڈاکٹر سید زبیر شاہ اور پروفیسر ڈاکٹر شوکت محمود نے سیر حاصل گفتگو کی۔ ان کے خیالات نے اس امر کو نمایاں کیا کہ کسی تخلیق کار کی پذیرائی صرف ایک اعزاز دینے کا نام نہیں، بلکہ اس کے پورے فکری اور تخلیقی سفر کو تسلیم کرنے کا عمل ہے۔

صاحبۂ شام محترمہ بشریٰ فرخ نے بھی اپنی فنی اور ادبی زندگی کی مختلف جہتوں پر روشنی ڈالی۔ ان کی گفتگو میں برسوں کی تخلیقی ریاضت، تجربے اور ادب سے وابستگی کی جھلک نمایاں تھی۔

پھر وہ لمحہ آیا جس کا سب کو انتظار تھا۔

محترمہ بشریٰ فرخ کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا گیا، جبکہ تابندہ فرخ کو گولڈ میڈل اور سرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا۔

یہ منظر اپنی جگہ ایک خوب صورت ادبی استعارہ تھا۔ ایک طرف ماں اپنی پوری زندگی کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ وصول کر رہی تھیں اور دوسری طرف بیٹی اپنی تخلیقی کاوش کے اعتراف میں تمغہ حاصل کر رہی تھیں۔ یوں محسوس ہوا جیسے ادب کی شمع ایک نسل سے دوسری نسل کے ہاتھ میں منتقل ہو رہی ہو۔ یوں تقریب کا پہلا حصہ ایک خوب صورت یاد کے ساتھ مکمل ہوا۔

دوسرے حصے میں پشتو ادب کی ممتاز شخصیات کی پذیرائی کی گئی۔ پشتو زبان و ادب کے مایہ ناز شاعر، ادیب اور مورخ فضل مومند نے روخان یوسفزئی کی زندگی کے نشیب و فراز پر پشتو میں ایک بہترین خاکہ پیش کیا، جس میں ان کی زندگی کے مدوجزر کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔ اس کے بعد بزرگ شاعر و ادیب، فخرِ شبقدر، نمروز قیس صاحب نے روخان یوسفزئی پر لکھی ہوئی پشتو نظم سنا کر حاضرینِ محفل سے دادِ تحسین وصول کی۔

اس کے بعد وہ پُرمسرت لمحہ آیا جس کا سب کو انتظار تھا۔ پشتو زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب، صحافی اور نقاد محترم روخان یوسفزئی کو ان کی طویل ادبی و صحافتی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا گیا، جبکہ راقم الحروف منور شاہ منور اور محترم روشن شاہ قلمیار کو گولڈ میڈل اور سرٹیفیکیٹس سے نوازا گیا۔

یوں اساک کی اس شام نے اردو اور پشتو، دونوں ادبی روایتوں کو ایک ہی محفل میں جگہ دے کر اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ زبانیں الگ ہو سکتی ہیں، لہجے مختلف ہو سکتے ہیں، مگر ادب کا درد، تخلیق کی خوشی اور اہلِ قلم کی قدر شناسی ایک مشترکہ انسانی جذبہ ہے۔

تقریب میں مختلف ادبی مشران، شعراء، ادباء اور ادب دوست شخصیات نے شرکت کی۔ ہر چہرے پر اپنے اپنے انداز میں ادب سے محبت کی ایک کہانی لکھی ہوئی تھی۔

اس پوری تقریب کی سب سے خوب صورت بات شاید یہ تھی کہ اساک نے کسی بڑے دعوے کے بغیر اپنے عمل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ادب کی خدمت صرف کتاب لکھنے تک محدود نہیں؛ اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی بھی ادب کی خدمت ہے۔

آج کے دور میں، جب بیشتر ادبی سرگرمیاں وسائل، تشہیر اور مختلف مصلحتوں کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہیں، وہاں چند دوستوں کا اپنی مدد آپ کے تحت ایک ایسا پلیٹ فارم قائم کرنا جہاں ادبی خدمات کو عزت دی جائے، یقیناً قابلِ تحسین عمل ہے۔

اساک کا سفر ابھی نیا ہے، مگر اس کے عزائم پرانے اور روشن ہیں۔ اس سفر میں بلال سکندری کی میزبانی، پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان سیماب کی سرپرستی، فیاض علی فیاض اور دیگر رفقائے کار کی محنت شامل ہے۔ یہ سب مل کر ایک ایسے کاروان کی تشکیل کر رہے ہیں جس کی منزل شاید کوئی ایک تقریب نہیں بلکہ ادب کی مسلسل خدمت ہے۔

10 جولائی کو ایک کتاب کی رونمائی سے جو چراغ روشن ہوا تھا، 11 ستمبر تک وہ کئی چراغوں کی روشنی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کبھی کبھی ایک کتاب صرف کتاب نہیں ہوتی؛ وہ ایک تحریک کے نقطۂ آغاز کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

ابدال سکندری ادبی کاروان (اساک) کا اصل حسن بھی شاید یہی ہے کہ یہ کسی ایک فرد کا کارنامہ نہیں بلکہ ہم خیال اہلِ دل کا اجتماعی خواب ہے۔ ایک ایسا خواب جس میں شاعر کی حوصلہ افزائی ہے، ادیب کا احترام ہے، تخلیق کار کی پذیرائی ہے اور سب سے بڑھ کر ادب سے محبت ہے۔

تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی پرتکلف چائے سے تواضع کی گئی، مگر اصل ضیافت تو وہ محبت تھی جو پوری شام لفظوں، لہجوں اور دلوں میں تقسیم ہوتی رہی۔

ادب کے سفر میں فاصلے قدموں سے نہیں، اخلاص سے طے ہوتے ہیں۔ اساک نے اپنے مختصر سفر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر چند لوگ مل کر لفظ کی حرمت اور اہلِ قلم کی عزت کا عہد کرلیں تو ایک چھوٹی سی نشست بھی ایک بڑے ادبی سفر کی بنیاد بن سکتی ہے۔

دعا ہے کہ ابدال سکندری ادبی کاروان کا یہ سفر اسی اخلاص کے ساتھ آگے بڑھتا رہے، نئے لکھنے والوں کے لیے امید کا چراغ بنتا رہے، اہلِ قلم کی قدر شناسی کی روایت کو مضبوط کرتا رہے اور ادب کے اس کارواں میں ہر وہ شخص شامل ہوتا رہے جس کے دل میں کتاب، قلم اور تہذیب کی محبت زندہ ہے۔

ایک کتاب سے آغاز ہوا تھا،
اب ایک کارواں رواں ہے۔
چراغ ایک تھا،
مگر روشنی بہت دور تک جانے کی امید رکھتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے