گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ضلع گھوٹکی میں گندم کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ذخیرہ اندوز مافیا کی وجہ سے قیمت 4200 روپے فی من کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ میرپور ماتھیلو، اوباڑو، ڈہرکی اور خانگڑھ سمیت مختلف علاقوں میں آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کی خاموشی پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
شہریوں اور سماجی تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر مافیا نے سرکاری سرپرستی میں ہزاروں من گندم خفیہ گوداموں میں ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کر رکھی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ غریب طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے دربدر ہو چکا ہے لیکن حکومتی سطح پر صرف بیانات تک محدود کارروائیاں دکھائی دے رہی ہیں، جس سے مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہو گیا ہے۔
عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کر کے خفیہ گوداموں کو سیل کیا جائے اور سرکاری نرخوں پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو پورے ضلع میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔