امریکی بحریہ نے ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنا دیا

تہران/واشنگٹن (کیو این این ورلڈ): امریکا اور ایران کے درمیان جاری پس پردہ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی بحریہ نے ایک ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 10 افراد زخمی جبکہ 5 لاپتا ہوگئے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق رات گئے آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے درمیان سفر کرنے والے ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز پر امریکی بحریہ کی جانب سے حملہ کیا گیا، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔

صوبہ ہرمزگان کے عہدیدار محمد رازمہر نے تصدیق کی کہ حملے کے وقت جہاز میں 15 افراد سوار تھے۔ ان کے مطابق 10 ملاح شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ 5 افراد تاحال لاپتا ہیں اور ان کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز معمول کے مطابق آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے پانیوں میں سفر کر رہا تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم امریکا کی جانب سے تاحال اس حملے کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے نئی امریکی تجویز پر جواب آج موصول ہونے کا امکان ہے، اور اگر اس میں ٹھوس پیش رفت ہوئی تو سنجیدہ سفارتی عمل آگے بڑھایا جائے گا۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی معاملات سفارتی حل کی طرف بڑھتے ہیں، امریکا خطرناک فوجی مہم جوئی شروع کردیتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ کسی “تخریب کار” کی حکمت عملی ہے جو ایک بار پھر امریکی قیادت کو نئی کشیدگی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں اور ملک کی دفاعی صلاحیتوں سے متعلق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی رپورٹ کو بھی مسترد کردیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کے میزائل ذخائر اور لانچرز کی صلاحیت میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب بھی ایران میں بعض فوجی اہداف پر امریکی حملوں اور آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے