اوچ شریف (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار حبیب خان) 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اوچ شریف میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر کسی نمایاں تقریب، ریلی یا احتجاج کا اہتمام سامنے نہ آنے پر انتظامیہ اور مختلف سماجی حلقوں کی ترجیحات پر سوالات اٹھنے لگے۔ کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے اہم دن پر شہر میں خاموشی چھائے رہنے سے شہری حلقوں میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ قومی و ملی شعور اجاگر کرنے کی ذمہ داری آخر کس کی ہے؟
یومِ سیاہ کشمیر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، ان کی قربانیوں اور بھارتی قبضے کے خلاف پاکستانی قوم کے اصولی مؤقف کی علامت ہے۔ ایسے اہم دن پر سرکاری سطح پر آگاہی پروگرام، ریلی یا تقریب کا انعقاد نہ ہونا انتظامی منصوبہ بندی اور قومی دنوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اوچ شریف میں یومِ سیاہ کشمیر کے حوالے سے کوئی مؤثر سرگرمی کیوں دکھائی نہ دی؟ کیا متعلقہ انتظامیہ نے اس دن کی مناسبت سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی، یا قومی اہمیت کے ایام کو محض رسمی کارروائی سمجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ انجمن تاجران، سول سوسائٹی اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے بھی کسی نمایاں سرگرمی کی عدم موجودگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایک طرف کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے عزم کا اظہار کیا جاتا ہے، لیکن دوسری طرف مقامی سطح پر اس عزم کو عوام تک پہنچانے کے لیے عملی سرگرمیاں دکھائی نہ دیں تو ایسے دعوؤں کی مؤثریت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مشکلات اپنی جگہ، تاہم قومی تاریخ، کشمیر کاز اور اجتماعی ذمہ داریوں سے متعلق آگاہی کو نظرانداز کرنا بھی لمحۂ فکریہ ہے۔
شہری حلقوں نے ضلعی و تحصیل انتظامیہ، متعلقہ سرکاری اداروں، انجمن تاجران، سول سوسائٹی اور مذہبی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتِ حال پر وضاحت پیش کریں اور آئندہ قومی و ملی ایام پر محض رسمی بیانات کے بجائے عملی اقدامات، عوامی آگاہی مہمات اور مؤثر تقریبات کا اہتمام یقینی بنائیں۔
شہری حلقوں کے مطابق اگر یومِ سیاہ کشمیر جیسے اہم دن پر بھی شہر میں قومی یکجہتی کا پیغام عام کرنے کے لیے کوئی نمایاں سرگرمی سامنے نہ آئے تو یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ قومی شعور بیدار کرنے کی ذمہ داری کون ادا کرے گا؟