29 اکتوبر: جمہوریہ ترکیہ کا قومی دن

29 اکتوبر ترکیہ کا یوم جمہوریہ
ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز)، پشاور
ziaulhaqsarhadi@gmail.com
پاکستان کے قیام سے بہت پہلے برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں ترکیہ کے عوام کے لیے گہری محبت اور وابستگی موجود تھی۔ بیسویں صدی کے ابتدائی مشکل دور میں جب ترک قوم تاریخی چیلنجز سے گزر رہی تھی، برصغیر کے مسلمانوں نے ان کے ساتھ بھرپور جذباتی یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہی تاریخی یاد آج بھی ترکیہ کے قومی شعور میں احترام کے ساتھ محفوظ ہے اور اسی نے دونوں قوموں کے درمیان اعتماد کی وہ بنیاد رکھی جو باضابطہ سفارتی تعلقات سے بھی پہلے قائم ہو چکی تھی۔

جب پاکستان 14 اگست 1947 کو ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا تو ترکیہ نے اس نئے مسلم ملک کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا۔ پاکستان کے لیے ترکیہ ایک ایسی قوم تھی جس کی تاریخ شاندار، شناخت مضبوط اور قومی احیاء کی داستان متاثر کن تھی۔ ترکیہ کے لیے پاکستان ایک ایسا برادر ملک تھا جس کے عوام ترک قوم کے لیے گہری محبت رکھتے تھے۔ یہی ابتدائی خیر سگالی جلد سفارتی تعلقات میں تبدیل ہوئی اور ایک ایسی دوستی کی بنیاد بنی جو بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات کے باوجود قائم رہی۔

آزادی کے بعد کے ابتدائی برسوں میں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو باقاعدہ شکل دی۔ 1954 میں پاکستان اور ترکیہ نے دوستی کے معاہدے پر دستخط کیے، جس سے سیاسی، سفارتی اور دفاعی تعاون کو تقویت ملی جبکہ پاکستان اور ترکیہ علاقائی اہمیت کے امور پر مل کر کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جبکہ مسلسل چار سال تک مغربی قوتوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے کے بعد مغربی قوتیں جمہوریہ ترکیہ کے بانی مصطفٰی کمال پاشا اتاترک کیساتھ معاہدہ لوزان پر دستخط کرنے پر مجبور ہوئیں اور 29 اکتوبر 1923ء کو جمہوریہ ترکیہ کی گرینڈ اسمبلی نے ملک کو جمہوریہ بنانے کا اعلان کیا اور مصطفٰی کمال ملک کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اِسی مناسبت سے تُرک قوم ہر سال اپنا قومی دن مناتی ہے۔

قبل ازیں دنیا کے تین براعظموں پر پھیلی ترک سلطنتِ عثمانیہ تقریباً 600 سال تک حکمرانی کیساتھ واحد سُپر پاور تھی۔ سلطنتِ عثمانیہ اور تُرک قوم کیساتھ برصغیر پاک و ہند کے مسلمان کس قدر گہرے دینی، مِلی، ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے تھے، اس کا اندازہ برصغیر پاک و ہند کے مشہور صوفی شاعر امیر خُسرو (1253ـ1325ئ) کے اس شعر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے:

زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم
چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہانِ من

(میرے یار کی زبان ترکی ہے اور میں ترکی نہیں جانتا، کیا ہی اچھا ہو اگر اسکی زبان میرے منہ میں ہو)

ترکیہ اور پاکستان دنیا میں دو ایسے ممالک ہیں جن کے عوام اپنے ملک کے قیام یا پھر آزادی حاصل کرنے سے قبل ہی ایک دوسرے سے گہری محبت کرتے چلے آرہے ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات 30نومبر 1947ء کو قائم ہوئے جو بانی پاکستان اور اُس وقت کے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کی ترک عوام کیساتھ دلی وابستگی کا ثبوت ہے۔ مفکرِ پاکستان علامہ اقبال اور جدید ترکیہ کے بانی مصطفی کمال پاشا اتاترک کا سالِ وفات 1938ء ہی ہے۔

جب جدید ترکی کے بانی غازی مصطفی کمال پاشا کا انتقال ہوا تو بانء پاکستان محمد علی جناح نے اس عظیم رہبر کے انتقال پر آل انڈیا مسلم لیگ کو درج ذیل حکم نامہ جاری کیا۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں قوموں کے تعلقات کس قدر گہری سطح پر قائم ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے تو ترکیہ اُن گنے چنے ممالک میں شامل تھا جس نے سب سے پہلے کراچی میں اپنا سفارتخانہ کھولا اور اس کے فوراً بعد اتاترک کے قریبی ساتھیوں میں سے مشہور رائٹر، شاعر، سیاستدان سفارتکار یحییٰ کمال بیاتلی نے 4مارچ 1948 کو قائد اعظم کو اسناد سفارت پیش کیں۔ اس موقع پر قائداعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کے عوام آپ کے ملک کو بڑی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اب دونوں ممالک کو آزاد اور خودمختار ہونے کے ناطے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ یحییٰ کمال بیاتلی 1949میں ریٹائر ہونے تک کراچی میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔

اس طرح ان دونوں ممالک کے درمیان 79 سال قبل قائم ہونے والے سفارتی تعلقات وقت کے ساتھ مزید فروغ پارہے ہیں اور دونوں ممالک تمام عالمی پلیٹ فارمز پر جس طرح ایک دوسرے کی مکمل حمایت اور پشت پناہی کرتے ہیں ایسی مثال دنیا کے دیگر ممالک میں ملنا مشکل ہے۔ ترکیہ اور پاکستان گہرے تاریخی، سماجی اور مذہبی رشتوں میں تو جڑے ہوئے ہیں ہی لیکن دونوں قوموں کے درمیان سفارتی سطح پر بھی برادرانہ تعلقات روزِ اول سے ہی قائم ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان نے ہردور میں ثابت کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کبھی کمی نہیں آئی۔

اگر ان تعلقات کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب ترک قوم کسی مشکل کا شکار ہوئی تو پاکستانیوں نے بلا جھجک ترکوں کی حمایت کی اور اسی طرح ترکوں نے پاکستان کی حمایت کی ہے۔ ترکیہ اور یونان کے درمیان قبرص کے مسئلے پر پاکستان نے روزِ اوّل سے ہی ترکوں کو کسی بھی عالمی رکاوٹ کو خاطر میں لائے بغیر سپورٹ کیا۔ مسئلہ قبرص پر ترکیہ کے ساتھ تنازعاتی ملک چونکہ یونان تھا اس لئے پاکستان کی جانب سے ترکیہ کی بھر پور حمایت کرنے پر یونان نے ہزاروں پاکستانیوں کو بحری کمپنیوں سے فارغ کردیا۔ جب ترکیہ کو اس کی خبر ملی تو اُس وقت کے ترک وزیر اعظم بلند ایجوت نے فوری طور پر سرکاری حکم نامہ جاری کیا کہ ان پاکستانی تارکین کو ترک بحری کمپنیوں میں ملازمتیں دے دی جائیں۔

اسی طرح ترکیہ پاکستان کے ساتھ ہر عالمی محاذ پر ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ دونوں پاک بھارت جنگوں 1965ء اور 1971ء اور کشمیر کے مسئلے پر ترکیہ نے کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی ایک شاندار تاریخ ہے، دونوں ممالک نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا جبکہ پاکستان قبرص کے مسئلے پر ترکیہ کے موقف کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی تاریخ بہت وسیع ہے، پہلی جنگِ عظیم کے بعد ترکیہ خلافت کے خاتمے کا شکار ہوا تو برصغیر کے مسلمانوں نے تحریک خلافت کے ذریعے ترک بھائیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ طرابلس کی جنگ میں بھی اْن کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، یہ تاریخی اور جذباتی رشتہ آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد ہے۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ترکیہ نے اِسے تسلیم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہو گئے، وقت کے ساتھ یہ رشتہ مزید مضبوط ہوتا گیا۔

فروری 1954ء میں باہمی تعاون کا معاہدہ ہوا جو بعد میں بغداد معاہدے (سینٹو 1955ئ) کی بنیاد بنا۔ سرد جنگ کے دور میں بھی دونوں ممالک دفاعی اور سٹرٹیجک سطح پر ایک ساتھ کھڑے رہے جبکہ کشمیر کے مسئلے پر بھی ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کے موقف ہی کی حمایت کی۔ اگست 2022ء میں دونوں ممالک کے درمیان ترجیحی تجارت معاہدہ (پی ٹی اے) دستخط ہوا جس کے تحت ترکیہ نے پاکستان کو 261 جبکہ پاکستان نے ترکیہ کو 130 ٹیرف لائنوں پر رعایت دی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اقتصادی تعاون کی تنظیم کو ازسرِنو فعال کیا جائے، وسطی ایشیاء کے ممالک کو شمولیت اختیار کرنے پر اْبھارا جائے تاکہ ایک مضبوط علاقائی تجارتی بلاک تشکیل پا سکے، تجارتی معاہدات عمل میں آ سکیں اور عوام کو روزگار کے مواقع مل سکیں۔ معاہدوں کی کامیابی اْسی وقت تسلیم کی جائے گی جب اْن کے ثمرات عام پاکستانیوں کی زندگی میں بہتری لائیں گے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی طور پر گہرے تعلقات کو اب مضبوط معاشی اور عملی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اِس سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کو اِس سلسلے میں انتہائی فعال کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ معاشی زونوں کی تشکیل میں کسی قسم کی پیچیدگی حائل نہ ہو سکے، سرمایہ کاری جلد از جلد ملکی معیشت کا حصہ بنے تاکہ عوام اِن اقتصادی سہولیات سے فائدہ اْٹھا سکیں۔

اسی طرح ہر سال ترکیہ اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کے قیام کی سالگرہ بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے۔ اس روز ترک سفارتخانہ کے تعاون سے پاکستان کے مختلف شہروں میں کانفرنسز، سیمینارز کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں دونوں ممالک کی نامور حکومتی شخصیات، سفارت کار، دانشور، صحافی حضرات اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھرپور شرکت کرکے دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی گرمجوشی استنبول، انقرہ اور دیگر ترک شہروں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔

پاک ترک تعلقات کے حوالے سے ایک فرینڈشپ گروپ ”پاکستان ترکیہ پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ” کے نام سے قائم ہے جو اِن تقاریب کو پُررونق بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوگان چار دفعہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرچکے ہیں۔ اپنے تاریخی خطابات میں انہوں نے ترکی اور پاکستان کے دیرینہ تاریخی تعلقات کی اہمیت اور اپنی جماعت اور ترک عوام کی طرف سے پاکستانی عوام کے لئے والہانہ محبت اور پرخلوص جذبات کا ذکر کیا ہے۔ پاک ترک دوستی صرف الفاظ تک ہی محدود نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں برادر ملک اور ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں برابر کے شریک ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان ہمیشہ اقوم متّحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاکستانی موقف کی بھرپور حمایت، بھارت کے یکطرفہ اقدامات، جبری پالیسیوں کی مذمّت اور اِس دیرینہ مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ صدر اردوان پاکستان کے ساتھ وسیع تر تزویراتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید وُسعت دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان یک جان دو قالب ہیں۔

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہر سال 23 مارچ کو یوم پاکستان کی مناسبت سے پر وقار تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ آبنائے استنبول پر ایشیا کو یورپ سے ملانے والے پلوں کو پاکستانی پرچم کے رنگوں میں منور کرکے ترک قیادت اور عوام پاکستان سے اپنی گہری دوستی اور والہانہ محبت کا ظہار کرتے ہیں۔ اس روز انقرہ میں پاکستانی سفارت خانہ میں منعقدہ پُروقار تقریب میں پاکستانی سفیر پرچم کشائی اور پاکستانی صدر، وزیراعظم کے تہنیتی پیغامات سناتے ہیں۔ آبنائے استنبول پر ایشیا کو یورپ سے ملانے والے پلوں کو پاکستانی پرچم کے رنگوں میں منور کرکے یوم پاکستان کی تقریبات منائی جاتی ہیں۔

اِسی طرح پاکستان میں تعینات ترکیہ کے سفیر بھی پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات، تاریخی اہمیت کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں اظہار خیال کرتے ہیں جبکہ دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کی طرف سے باہمی خیرسگالی پر مبنی تہذیب و ثقافت کے گہرے رشتوں میں بندھے تعلقات اور یہ جذبات و پیغامات پاک ترک لازوال دوستی کی زندہ مثالیں ہیں جو کسی بھی بین الاقوامی، علاقائی مفاد سے بالاتر اور ہر گزرتے دن کیساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جارہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے