سستے چینی اوپن سورس ماڈلز امریکی کمپنیوں میں مقبول ہونے لگے

واشنگٹن (کیو این این ورلڈ)امریکی ویب سائٹ Axios کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی دنیا میں اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان ایک بڑی جنگ چھڑ چکی ہے۔ چین کے تیار کردہ سستے، طاقتور اور اوپن سورس اے آئی ماڈلز اب امریکی کمپنیوں میں تیزی سے جگہ بنا رہے ہیں، اور اکثر اوقات کمپنیوں کے اعلیٰ حکام اس سے بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ ماڈلز اوپن سورس ہونے کی وجہ سے مفت ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں اور ان کو چلانے کی لاگت بھی انتہائی کم ہے۔ یہ صورتحال اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی، گوگل کے جیمنائ اور انتھروپک کے کلاڈ جیسے مہنگے امریکی ماڈلز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

اس بڑھتے ہوئے رجحان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی امیر ترین سافٹ ویئر کمپنی مائیکروسافٹ بھی اب صرف امریکی ماڈلز تک محدود نہیں رہی۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مائیکروسافٹ اپنے سب سے زیادہ ڈیٹا استعمال کرنے والے اسسٹنٹ ‘کوپائلٹ کوورک’ کے لیے چینی اے آئی ماڈل ‘ڈیپ سیک’ (DeepSeek) کو ایک سستے متبادل کے طور پر استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اوپن سورس اے آئی پر غلبہ حاصل کرنا اب چین کی قومی حکمت عملی بن چکا ہے، اور یہ ماڈلز امریکی ماڈلز کے مقابلے میں 10 سے 100 گنا تک سستے ہیں۔

اوپن راؤٹر (OpenRouter) کے جاری کردہ ڈیٹا پر مبنی Axios کے گراف کے مطابق، ٹوکن کے استعمال میں چینی ماڈلز کا حصہ 2025 کے آغاز سے لے کر اب تک تیزی سے بڑھا ہے۔ خاص طور پر سال 2026 کے آغاز سے اس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں چینی ماڈلز کا استعمال کس تیز رفتاری سے بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ چینی ماڈل جیسے کہ ‘DeepSeek V4’ کارکردگی میں امریکی ماڈلز سے تھوڑا پیچھے ہیں، لیکن ان کے درمیان کا یہ فرق اب بہت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

کئی کمپنیاں صرف قیمت کم ہونے اور بہتر کارکردگی کی وجہ سے پہلے ہی ان چینی ماڈلز پر منتقل ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر، اے آئی ایجنٹ پلیٹ فارم ‘لنڈی’ (Lindy) نے اپنے نظام کو مکمل طور پر DeepSeek V4 پر منتقل کر دیا، جس سے انہیں لاکھوں ڈالرز کی بچت ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چینی ماڈلز زیادہ تر کاموں کے لیے بہترین اور انتہائی سستے ہیں، لیکن ان کے ساتھ سیکیورٹی کے بڑے خطرات بھی جڑے ہیں، کیونکہ بیجنگ ان ماڈلز کے ذریعے کمپنیوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جو آنے والے وقت میں امریکہ اور چین کے تعلقات میں ایک نئی نوعیت کا خطرہ بن سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے