امریکی صدر ٹرمپ کے مطالبے پر سعودی عرب کا سخت مئوقف سامنے آگیا

ریاض / واشنگٹن / اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبے پر سعودی عرب کی جانب سے سخت اور واضح مؤقف سامنے آگیا ہے، جس میں مملکت نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کردیا ہے۔

امریکی میڈیا ادارے سی این این کے مطابق سعودی عرب نے دو ٹوک انداز میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، اس وقت تک ریاض ابراہم اکارڈز (Abraham Accords) کا حصہ نہیں بن سکتا۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اسرائیل سے باضابطہ تعلقات قائم کرنے کے معاملے کو فلسطینی مسئلے کے حل سے براہِ راست جوڑ دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سعودی عرب، پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ابراہم اکارڈز پر دستخط کریں۔ ان کے مطابق مسلم ممالک کو اس معاہدے میں شامل ہونا چاہیے اور بعض ممالک کو اس عمل میں پہل کرنی چاہیے، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر چند ممالک اس میں شامل نہیں ہوتے تو بھی محدود شمولیت قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کو بھی ابراہم اکارڈز میں شامل کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہوگا۔ ان کے بقول ایران کی شمولیت سے مشرقِ وسطیٰ ایک مضبوط، متحد اور معاشی طور پر طاقتور خطہ بن سکتا ہے۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ موجودہ معاہدے نہ صرف جنگ کے باوجود برقرار رہے ہیں بلکہ ان سے رکن ممالک کو معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی ابراہم معاہدوں کا حصہ ہیں، جبکہ سوڈان، مراکش اور قازقستان جیسے ممالک بھی اس عمل سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ مسلم ممالک کے ساتھ رابطوں کا عمل شروع کر چکی ہے تاکہ انہیں اس معاہدے کا حصہ بنایا جا سکے۔ ٹرمپ کے مطابق جو ممالک اس معاہدے میں شامل نہیں ہوں گے، ان کا ایران کے ساتھ مجوزہ ڈیل میں شامل ہونا بھی مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے نیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کا ابراہم اکارڈز میں شامل ہونا خطے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کو فروغ مل سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے