شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی تعریف، PAJCCI کا تجارت اور علاقائی استحکام کیلئے عملی اقدامات پر زور

کراچی (کیو این این ورلڈ):پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے چیئرمین زبیر موتی والا اور صدر جنید اسماعیل مکدا نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امن، علاقائی استحکام اور تعمیری سفارت کاری کے فروغ کیلئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قیادت نے مشکل حالات میں مذاکرات، تحمل اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دے کر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔

کراچی میں جاری بیان میں صدر PAJCCI جنید اسماعیل مکدا نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے پورے خطے میں تشویش کو جنم دیا، تاہم پاکستانی قیادت نے مسلسل امن، مکالمے اور سفارتی حل پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن اور استحکام معاشی ترقی، تجارتی فروغ اور علاقائی روابط کیلئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ سفارت کاری، باہمی رابطے اور اقتصادی تعاون ہی معاشی مفادات کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کی خوشحالی کو یقینی بنانے کے مؤثر ذرائع ہیں۔

جنید مکدا نے افغانستان سے خالی کنٹینرز کی آمدورفت کی حالیہ اجازت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اعتماد سازی کی جانب ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی بھرے ہوئے کنٹینرز اور تجارتی سامان کی معمول کے مطابق نقل و حمل بھی بحال ہو جائے گی، جس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیوں کو نئی زندگی ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو خطے میں کامیاب اقتصادی تعاون کی مثال بنایا جانا چاہیے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور معاشی روابط موجود ہیں، جبکہ باہمی تعاون علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔

PAJCCI کے سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) نے کہا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیوں میں تعطل کے باعث پاکستان اور افغانستان دونوں کو ناقابلِ تلافی معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس دوران ہزاروں تاجروں، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں اور کاروباری اداروں کے مفادات متاثر ہوئے اور سرحدی تجارت شدید دباؤ کا شکار رہی۔

انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ایسے عملی اور تعمیری اقدامات کیے جائیں جو دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ سرگرمیوں کی مکمل بحالی میں مددگار ثابت ہوں۔ معاشی روابط اور تجارتی تعاون نہ صرف اعتماد سازی بلکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

PAJCCI کے نائب صدر پرویز لالا نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں سارک اور ٹی آئی آر (TIR) کنونشنز کے رکن ہیں، لہٰذا بین الاقوامی معاہدوں اور ذمہ داریوں کے مطابق تجارت کی مکمل بحالی ضروری ہے تاکہ علاقائی ٹرانزٹ، رابطوں اور اقتصادی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

چیمبر نے وزارت تجارت کی کاوشوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں تاجروں کو بھرپور سہولتیں فراہم کی گئیں، خصوصاً سرحدی بندشوں کے دوران ری ایکسپورٹ کی اجازت کا فیصلہ قابلِ تحسین رہا۔ PAJCCI نے وزارت تجارت پر زور دیا کہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد تاجروں کو ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ اس نئے تجارتی راستے سے کاروباری مواقع میں اضافہ، علاقائی روابط میں مضبوطی اور پورے خطے میں معاشی خوشحالی کو فروغ ملے گا۔

پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان اور افغانستان کی کاروباری برادریوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حالیہ مثبت پیش رفت کے نتیجے میں تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں گی، ٹرانزٹ نظام مزید ہموار ہوگا اور علاقائی معاشی انضمام کو نئی تقویت ملے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے