کھوکھلے نعرے اور پاپولسٹ سیاست

سیاست کا حلوائی اور پاپولزم
تحریر: سید نذیر شاہ

سقراط نے آج سے ہزاروں سال پہلے یونان کے ایک چوک میں کھڑے ہو کر اپنے شاگردوں سے ایک عجیب سوال پوچھا تھا۔ اس نے کہا، "فرض کرو ایک شہر میں الیکشن ہو رہے ہوں اور دو امیدوار آمنے سامنے ہوں۔ ایک ڈاکٹر ہو اور دوسرا مٹھائی بیچنے والا حلوائی۔ حلوائی اسٹیج پر کھڑا ہو اور لوگوں سے کہے کہ یہ ڈاکٹر ظالم ہے، یہ تمہیں کڑوی دوائیاں دیتا ہے، تمہاری زبان کا ذائقہ خراب کرتا ہے اور تمہیں اپنی مرضی کی چیزیں کھانے سے روکتا ہے، جبکہ میں تمہیں میٹھی مٹھائیاں دوں گا، مزیدار حلوے کھلاؤں گا اور تمہاری زندگی میں مٹھاس بھر دوں گا۔” سقراط نے مسکرا کر پوچھا، "تم بتاؤ عوام کس کو ووٹ دیں گے؟” شاگردوں نے یک زبان ہو کر کہا، "حلوائی کو۔” سقراط نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا، "بس یہی جمہوریت کا سب سے بڑا المیه ہے۔” اسی حلوائی کو پولیٹیکل سائنس کی زبان میں ڈیماگوگ اور پاپولسٹ کہا جاتا ہے۔

سیاست کی دنیا میں پاپولسٹ رہنما اور ڈیماگوگ دو ایسی اصطلاحات ہیں جو عوامی نفسیات اور اقتدار کی سیاست کے گرد گھومتی ہیں۔ پاپولسٹ رہنما سے مراد ایک ایسا سیاسی لیڈر ہوتا ہے جو اپنے بیانیے میں معاشرے کو دو واضح حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے، جس میں ایک طرف مظلوم اور سچے عوام ہوتے ہیں اور دوسری طرف کرپٹ اور ظالم اشرافیہ یا ایلیٹ کلاس ہوتی ہے۔ یہ رہنما خود کو کسی روایتی سیاسی فلسفے کے بجائے عوام کا واحد اور سچا نجات دہندہ بنا کر پیش کرتا ہے جو مروجہ نظام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ دوسری طرف، ڈیماگوگ ایک ایسے عیار اور فتنہ انگیز رہنما کو کہتے ہیں جس کا اپنا کوئی ٹھوس نظریہ یا ملک چلانے کا سنجیدہ منصوبہ نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف اقتدار حاصل کرنے کے لیے عوام کے خوف، غصے، محرومیوں اور تعصبات جیسے شدید جذبات کو بھڑکاتا ہے اور لوگوں کو بے وقوف بناتا ہے۔ سوشل سائنس کے مطابق، اگرچہ ان دونوں میں باریک سا فرق ہے، لیکن عملی طور پر یہ دونوں خصوصیات اکثر ایک ہی لیڈر میں یکجا نظر آتی ہیں، کیونکہ پاپولسٹ رہنما بھی عوام کو متحرک کرنے کے لیے ڈیماگوگ کی طرح کڑوی سچائیوں کے بجائے ہمیشہ سستے اور پرکشش نعروں کا سہارا لیتا ہے۔

آج اگر ہم اکیسویں صدی کی دنیا پر نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر طرف سقراط کا وہی حلوائی اسٹیج پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ دنیا بھر کے بڑے بڑے ریسرچ اداروں کی رپورٹیں اٹھا کر دیکھ لیجیے، پچھلی ایک آدھ دہائی میں دنیا بھر میں پاپولزم اور ڈیماگوگی کا سیلاب آ چکا ہے۔ یہ پاپولسٹ رہنما اور ڈیماگوگ آخر ہوتے کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا اپنا کوئی ٹھوس نظریہ، کوئی سنجیدہ معاشی پلان یا ملک چلانے کا کوئی حقیقی پروگرام نہیں ہوتا۔ ان کا واحد مقصد اقتدار کا حصول ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ عوام کے جذبات کی دکان چمکاتے ہیں۔ یہ لوگوں کے خوف، ان کے غصے، ان کی محرومیوں اور ان کی غربت کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ جب کسی معاشرے میں مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی بڑھتی ہے تو لوگ قدرتی طور پر ایک مسیحا تلاش کرتے ہیں، اور یہ رہنما عین اسی وقت مسیحا کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آ جاتے ہیں۔

یہ رہنما عوام کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وہ اکیلے سچے اور ایماندار ہیں جبکہ باقی پورا نظام، تمام پرانے سیاستدان، عدالتیں اور ادارے کرپٹ اور عوام کے دشمن ہیں۔ یہ معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، ایک طرف معصوم عوام اور دوسری طرف ظالم اشرافیہ۔ یہ پیچیدہ سے پیچیدہ معاشی مسائل کا ایسا آسان حل پیش کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ بس مجھے اقتدار دو، میں چند چوروں کو جیل میں ڈالوں گا، لوٹا ہوا پیسہ واپس لاؤں گا اور اگلے ہی دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔ عوام ان کی سحر انگیز تقریروں اور بلند بانگ دعووں پر ایسا اندھا یقین کر لیتے ہیں کہ ان کی اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ وہ ان رہنماؤں کے ہر جھوٹ کو سچ اور ہر یوٹرن کو ایک عظیم حکمتِ عملی ماننے لگتے ہیں۔

لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جذباتی نعروں سے جذباتی تقریریں تو ہو سکتی ہیں، ملک کی معیشت نہیں چلائی جا سکتی۔ جب یہ پاپولسٹ رہنما اقتدار میں آتے ہیں اور مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، تو یہ اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے ایک نیا جادو جگاتے ہیں۔ یہ اپنی ناکامی کا ملبہ اداروں پر، عدالتوں پر، بیوروکریسی پر یا کسی مبینہ بیرونی سازش پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ اپنے حامیوں کے ذہنوں میں یہ خوف بٹھا دیتے ہیں کہ اگر میری حکومت نہ رہی تو ملک تباہ ہو جائے گا۔ آج سوشل میڈیا کے دور نے ان فتنہ انگیز رہنماؤں کے کام کو مزید آسان کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ کے الگورتھم غصے اور نفرت کو زیادہ پھیلاتے ہیں، اس لیے یہ رہنما منٹوں میں لاکھوں لوگوں کو کسی بھی بیانیے کے پیچھے اندھا دھند دوڑا دیتے ہیں۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی جدید دور کے پاپولزم اور ڈیماگوگی کی ایک نمایاں مثال سمجھے جاتے ہیں۔ جب بھی بھارت کو معاشی سست روی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی یا سماجی بے چینی جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو حکمران طبقے کا بیانیہ اکثر قومی سلامتی، شدید قوم پرستی اور پاکستان مخالف جذبات کو نمایاں کرنے لگتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد عوامی توجہ کو ان بنیادی مسائل سے ہٹانا ہوتا ہے جو براہِ راست ان کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں۔ مودی بھارتی معاشرے میں قوم پرستی اور خوف کا ایسا طوفان کھڑا کرتا ہے کہ عام ووٹر اپنی بھوک اور سسکتی زندگی کو بھول کر انہیں ہی اپنا واحد نجات دہندہ ماننے لگتا ہے۔ لیکن کیا وہ پچھلے 12 سالوں میں اپنے ملک کے کروڑوں انسانوں کو غربت اور بے روزگاری کے حقیقی شکنجے سے آزاد کر پائے ہیں؟

ترقی کے ان بلند بانگ دعوؤں اور زمینی حقائق کے اسی ہولناک تضاد پر خود بھارتی چیف جسٹس کو بھی یہ تبصرہ کرنا پڑا کہ ملک کے نوجوان "کاکروچ” کی طرح ہو چکے ہیں، جنہیں نہ کوئی روزگار ملتا ہے اور نہ ہی کسی پیشے میں مناسب جگہ ملتی ہے۔ یہ ریمارکس اس بات کا ایک بڑا ثبوت ہیں کہ جب پاپولسٹ رہنما اسٹیج پر کھڑے ہو کر سستے نعروں کی مٹھاس بانٹ رہے ہوتے ہیں، تو پسِ پردہ کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل اندھیروں کی نذر ہو رہا ہوتا ہے۔ انڈین بے روزگار نوجوانوں نے اس توہین کو ایک سیاسی تحریک میں بدل دیا اب یہی نوجوان "کاکروچ جنتا پارٹی” کی شکل میں سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ وہ جن زی (Gen Z) نوجوان جو کل تک امتحانی مراکز، لائبریریوں اور کوچنگ اکیڈمیوں تک محدود تھے آج تعلیمی نظام سے وابستہ نوجوان اپنے مستقبل کے سوال کے ساتھ ریاست کے سامنے کھڑے ہیں۔ بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے پہلے عوامی احتجاج نے مودی سرکار کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایک اجتماع سے تقریر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر نوجوانوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو اس احتجاجی تحریک کو ملک کے دیگر شہروں تک توسیع دی جائے گی۔ دوسری طرف مودی حکومت اور انڈین گودی میڈیا نے روایتی ہتھکنڈہ اپناتے ہوئے دعویٰ کر دیا ہے کہ اس مہم کے 49 فیصد فالوورز کا تعلق پاکستان سے ہے تاکہ اس عوامی غصے کو بیرونی سازش قرار دیا جا سکے۔ تاہم تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ 94 فیصد سے زائد فالوورز خود بھارت میں مقیم ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ یہ آواز کہیں باہر سے نہیں بلکہ خود بھارتی نوجوانوں کے دلوں سے اٹھ رہی ہے۔ اس تحریک کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے وابستہ افراد میں تقریباً 25 فیصد خواتین بھی شامل ہیں، جو اس احتجاج کے وسیع اور حقیقی ہونے کا ثبوت ہے۔

جنوبی ایشیا سے لے کر دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک تک، یہ پاپولسٹ سیاست اداروں کو کمزور کر رہی ہے اور معاشروں میں ایسی گہری نفرت پیدا کر رہی ہے جسے ختم ہونے میں دہائیاں لگیں گی۔ عوام نے ہمیشہ سیاستدانوں کو اپنا مسیحا مانا لیکن یہ بھول گئے کہ سچا رہنما وہ نہیں ہوتا جو عوام کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں سستے خواب بیچے، بلکہ سچا رہنما وہ ہوتا ہے جو کڑوی حقیقتیں بیان کرے اور ملک کو کسی ٹھوس نظریے اور قانون کے تحت چلائے۔ جب تک ہم نعروں کے اس سحر سے باہر نکل کر کارکردگی اور سچائی پر سوال نہیں اٹھائیں گے، تب تک ہم اسی حلوائی کے ہاتھوں بے وقوف بنتے رہیں گے اور ہماری حالت کبھی نہیں بدلے گی۔ رکیے، سوچیے اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیے کہ کہیں ہماری اجتماعی نفسیات اور زبان اب کڑوی سچائیوں کا سامنا کرنے کے بجائے پاپولسٹ رہنماؤں کے میٹھے اور کھوکھلے نعروں کے ذائقے کی عادی تو نہیں ہو چکی؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے