خواجہ معین الدین چشتیؒ کا فلسفۂ حیات اور درگاہ کے موجودہ حالات
تحریر: ظفر اقبال ظفر
آپؒ نجیب الطرفین سید ہیں، یعنی والد اور والدہ دونوں اطراف سے آپؒ کا شجرہ حضرت علیؓ سے جا ملتا ہے۔ آپؒ کا اصل نام حسن ہے۔ آپؒ 14 رجب 530 ہجری، 18 اپریل 1139ء کو ایران کے علاقے سنجر میں پیدا ہوئے، اسی نسبت سے آپؒ کو حسن سنجری بھی کہا جاتا ہے۔
آپؒ کے والد محترم کا نام غیاث الدین حسنؒ تھا، جو اپنے وقت کے صاحبِ کمال عالمِ دین اور ولی اللہ تھے۔ انہوں نے خواجہ صاحبؒ کی ابتدائی تعلیم گھر میں خود شروع کروائی۔ آپؒ کی والدہ محترمہ کا نام ماہ نور بی بیؒ تھا۔ جب آپؒ پندرہ برس کے تھے تو والدین اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ وراثت میں ایک باغ اور پن چکی ملی، جن سے آپ اپنی دنیاوی ضروریات پوری کرتے تھے۔
ایک دن اسی باغ میں حضرت ابراہیم غندوزیؒ تشریف لائے۔ خواجہ صاحبؒ نے عقیدت، تعظیم اور محبت سے ان کی مہمان نوازی کی۔ بزرگ نے خوش ہو کر آپؒ کو روٹی کا ایک ٹکڑا عطا فرمایا۔ اسے تناول کرنے کے بعد آپؒ کا دل دنیاوی معاملات سے ہٹ کر دینی امور کی طرف مائل ہو گیا۔ اس کے بعد آپؒ سلسلۂ چشتیہ کے عظیم بزرگ خواجہ عثمان ہارونیؒ کے مرید ہو گئے اور مرشد کے ساتھ تقریباً بیس سال تک دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا۔
مورخین لکھتے ہیں کہ جب آپؒ مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو آپؒ کو خواب میں محبوبِ خدا، سردار الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ نے انہیں اپنا نمائندہ مقرر کرتے ہوئے کفروشرک میں مبتلا انسانوں کو دینِ اسلام کی روشنی سے آشنا کرنے کے لیے ہندوستان جانے کا حکم فرمایا۔
چنانچہ آپؒ نے تیرہویں صدی کے آغاز میں جنوبی ایشیا کا رخ کیا اور پہلے لاہور تشریف لائے، جہاں حضرت سید علی بن عثمان جلابیؒ المعروف داتا گنج بخشؒ کے مزار پر چلہ کشی کی۔ یہاں سے روحانیت کے مزید مدارج طے کرنے کے بعد آپؒ اجمیر میں مقیم ہو گئے۔
آپؒ نے پہلا نکاح سید وجہہ الدینؒ کی صاحبزادی اُمت اللہ سے کیا، جبکہ دوسرا نکاح ایک مقامی ہندو راجہ کی بیٹی سے کیا، جن کا نام بعد میں عصمت اللہ رکھا گیا۔ ان دونوں ازواج سے آپؒ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئے۔ بیٹوں میں خواجہ فخرالدینؒ، خواجہ حسام الدینؒ اور خواجہ ضیاء الدینؒ جبکہ بیٹی بی بی جمال شامل ہیں۔
آپؒ نے اپنی نوے سالہ حیاتِ مبارکہ میں دینِ اسلام کی دولت سے لاکھوں انسانوں کو مستفید کیا اور انسانیت کی خدمت، محبت اور احترام کا ایسا درس دیا کہ مختلف مذاہب کے لوگ آج بھی آپؒ سے عقیدت رکھتے ہیں۔ آپؒ کی زندگی کراماتِ خداوندی سے بھرپور ہے۔ آپؒ کی مکمل حیاتِ مبارکہ کے مطالعے کے لیے درجنوں کتابیں بھی کم محسوس ہوتی ہیں، کیونکہ آپؒ سے منسوب روحانی فیوض و برکات کے واقعات آج بھی بیان کیے جاتے ہیں۔
اوپر بیان کی گئی معلومات عام طور پر دستیاب ہیں۔ اب میں اپنی ذاتی کیفیت اور مشاہدات کی طرف آتا ہوں۔
میں نے کئی سال قبل کتابی مطالعے کے ذریعے خواجہ صاحبؒ کی دینی خدمات اور بالخصوص روحانی درجات سے واقفیت حاصل کی۔ اسی بنا پر میں نے انہیں اللہ تعالیٰ کے محبوب ولی کی حیثیت سے اپنے دل و روح میں مقامِ عقیدت و محبت دیا۔ یہ اعزاز انہیں رسولِ اکرم ﷺ کی نسبت سے حاصل ہوا۔ اسلام نسلِ رسول ﷺ کے ذریعے قیامت تک انسانیت میں پہنچتا رہے گا، اور یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ بعض اوقات ایک فرد وہ خدمت انجام دے جاتا ہے جو صدیوں پر محیط جماعتیں اور فرقے بھی انجام نہیں دے پاتے۔
تصوف اور روحانیت کے منکرین کے لیے شاید یہ باتیں قابلِ فہم نہ ہوں، لیکن برصغیر کے مسلمانوں کی نسلوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے آباؤ اجداد میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو کبھی غیر مسلم تھے اور اولیائے کرام کی دعوت و تبلیغ کے نتیجے میں اسلام سے روشناس ہوئے۔ ہم بھی انہی روحانی چشموں کے فیض یافتہ ہیں جن کا سرچشمہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔
خواجہ معین الدین چشتیؒ پوری امتِ مسلمہ اور دیگر مذاہب کے نزدیک "غریب نواز” کے لقب سے مشہور ہیں۔ ان کی درگاہ پر ہر مذہب کے لوگ اپنی حاجات کے لیے دعائیں اور منتیں کرتے ہیں۔ تاہم خواجہ صاحبؒ سمیت تمام سچے اولیائے کرام کی ارواح ان لوگوں کی دعاؤں سے زیادہ خوش ہوتی ہیں جو ان کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے عبادت، تقویٰ اور خدمتِ خلق کی توفیق طلب کرتے ہیں۔ جو خود دنیا سے بے نیاز ہو چکے ہوں، وہ دوسروں کو دنیا پرستی کا درس نہیں دیتے۔
خواجہ صاحبؒ کو غریب نواز اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دین کی دولت سے محروم لوگوں کو اسلام کی نعمت سے مالا مال کیا اور آخرت کے خزانوں سے روشناس کرایا۔ اللہ کے تمام اولیاء زمین پر اللہ کے نظام کو انسانوں کی زندگی میں نافذ دیکھنا چاہتے تھے۔
2026ء کی عیدالاضحیٰ کا موقع تھا۔ شدید گرمی کے باعث میں گھر تک محدود تھا اور انہی دنوں خواجہ صاحبؒ کی روحانی شخصیت اور خدمات میرے ذہن پر غالب تھیں۔ اسی دوران ان کے مزارِ اقدس اجمیر شریف میں سلام پیش کرنے کی خواہش شدت اختیار کر گئی۔
میں نے سوشل میڈیا کے ذریعے درگاہ سے وابستہ مختلف افراد سے رابطہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عید کے چوتھے روز ایک سیدزادے کی دعاؤں کے ساتھ ویڈیو کال پر سلام پیش کرنے کا موقع ملا۔ اس سے مجھے بے حد روحانی خوشی حاصل ہوئی۔ بعد میں بھی کئی بار سلام پیش کرنے اور دوستوں کے سلام پہنچانے کا موقع ملا۔
تاہم اسی دوران درگاہ اجمیر شریف میں بعض عقیدت مندوں اور خادمین کے طرزِ عمل کو دیکھ کر میرا دل زخمی اور روح رنجیدہ ہو گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ بعض دعائیں اور اندازِ خطاب ایسے ہیں جو براہِ راست اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہونے چاہییں۔ ممکن ہے کہ اس ماحول میں رہنے والے لوگ اس فرق کو محسوس نہ کرتے ہوں، لیکن میرے لیے یہ معاملہ باعثِ تشویش تھا۔
میں شرک اور بدعت کے فرق کو سمجھتا ہوں۔ نہ میں اللہ تعالیٰ کو اس کے مقام سے نیچے لا سکتا ہوں اور نہ کسی بندے کو، خواہ وہ کتنا ہی بلند مرتبہ کیوں نہ ہو، اللہ کے مقام پر بٹھا سکتا ہوں۔ انبیائے کرام اور اولیائے عظام کی تمام عظمت اپنی جگہ، مگر حاجت روا اور مشکل کشا حقیقی معنوں میں صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
جب مجھے ایسی دعاؤں کی ویڈیوز موصول ہوئیں تو میں نے دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ اور خواجہ معین الدین چشتیؒ کے حضور اپنا موقف پیش کیا کہ نہ میں اللہ کو اس کے مقام سے کم سمجھ سکتا ہوں اور نہ خواجہ صاحبؒ کو ان کے حقیقی مقام سے بڑھا سکتا ہوں۔ میرے لیے پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، پھر اس کے محبوب بندے۔
میرا یقین ہے کہ اگر آج خواجہ صاحبؒ خود موجود ہوتے تو وہ سب سے پہلے مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی شرک اور بدعت کی غلط صورتوں کی اصلاح فرماتے۔ کاش ہم اولیائے کرام کی حقیقی تعلیمات کو سمجھتے اور مزارات پر ہونے والی جہالتوں کی وجہ سے ان کے اصل پیغام سے دور نہ ہوتے۔
اولیائے کرام کا اصل پیغام خدا شناسی، محبتِ رسول ﷺ، عبادت، تقویٰ اور خدمتِ انسانیت تھا۔ حقیقی سجادہ نشین اور خادم وہی ہیں جو اسی پیغام کو آگے بڑھائیں۔ ہر شخص مزار پر جا کر صاحبِ مزار کے روحانی فیض سے مستفید نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے لیے اخلاص، محبت اور شریعت کی پابندی ضروری ہے۔
میرے جیسے گنہگار انسان کی زندگی تو قبرستان جیسی ویران ہے، جہاں کبھی کبھار کوئی محبت سے ملنے آ جاتا ہے، مگر اولیائے کرام کے مزارات پر لاکھوں لوگ ادب، محبت اور عقیدت کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ یہ انہی بزرگوں کے اخلاص، خدمت اور روحانی اثرات کا نتیجہ ہے۔
مسلمان کی پہلی محبت اور ادب کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے، اس کے بعد سرکارِ دو عالم حضرت محمد ﷺ ہیں۔ محبتِ رسول ﷺ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں عاشق اپنی ذات کو فراموش کر دیتا ہے۔
ایک وقت تھا جب میں سمجھتا تھا کہ دربارِ رسالت ﷺ میں حاضری کے دوران عقیدت کے اظہار کے مختلف طریقوں کی گنجائش ہونی چاہیے، لیکن جب دنیا بھر میں مقدس مقامات پر لوگوں کی بعض غیر مناسب حرکات دیکھیں تو میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے اپنے محبوب ﷺ کے روضۂ اقدس کے لیے ایسے انتظامات پسند فرمائے جو ادب، احترام اور عقیدے کی حفاظت کا سبب بنتے ہیں۔
