تاریخ، روایت اور محبتوں کا اجتماعی مرکز

گڑنگہ بالا کا پیپل حجرہ ؛تاریخ، روایت اور محبتوں کا اجتماعی مرکز
تحریر: منورشاہ منور
علاقۂ اصحاب بابا کے دل میں بسا ہوا گاؤں گڑنگہ بالا اپنے حسنِ فطرت، سادگی اور باہمی اخوت کے سبب ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ مگر اگر اس گاؤں کی روح کو کسی ایک جگہ میں سمیٹا جائے تو وہ جگہ ہے قدیم پیپل حجرہ — ایک ایسا مقام جو صرف اینٹ، مٹی اور لکڑی کا مجموعہ نہیں بلکہ صدیوں پر پھیلی روایتوں، محبتوں اور یادوں کا امین ہے۔

اس حجرے کے سامنے ایستادہ وہ عظیم الشان پیپل کا درخت، جس کی عمر ڈیڑھ سو برس سے متجاوز ہو چکی ہے، آج بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ سایہ فگن ہے۔ اس کے گھنے اور ٹھنڈے سائے نے نہ صرف گرمیوں کی تپتی دوپہروں کو راحت بخشی بلکہ بے شمار دلوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب کیا۔ اس کے پتوں کی سرسراہٹ میں ماضی کی داستانیں پوشیدہ ہیں اور اس کی مضبوط جڑوں میں گاؤں کے اتحاد کی بنیادیں پیوست ہیں۔

اس پیپل حجرے کی تاریخ سے جڑی ایک نہایت دلچسپ اور دل کو چھو لینے والی روایت بھی بزرگوں سے سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہے۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب گڑنگہ بالا کے لوگ روزمرہ کی ضروریات اور سودا سلف کی خریداری کے لیے شہرِ پشاور کا رخ کیا کرتے تھے۔ آمدورفت کے ذرائع محدود تھے؛ لوگ میلوں کا سفر پیدل طے کرتے یا تانگے کے ذریعے پشاور کی طرف جاتے تھے۔

روایت ہے کہ حاجی اعظم خان بابا کے والدِ محترم بھی ایک روز پشاور کی پیپل منڈی میں سودا سلف لینے گئے۔ واپسی پر وہ وہاں سے پیپل کا ایک ننھا سا پودا اپنے ساتھ لے آئے اور اسے گڑنگہ بالا کے اسی حجرے میں محبت سے لگا دیا۔ شاید اُس وقت کسی نے یہ تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ یہ ننھا سا پودا آنے والے برسوں میں ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرے گا اور نسلوں کے لیے سایۂ رحمت بن جائے گا۔

وقت گزرتا گیا، موسم بدلتے رہے، نسلیں آتی اور رخصت ہوتی رہیں، مگر وہ ننھا پودا بڑھتے بڑھتے ایک عظیم الشان پیپل کے درخت میں تبدیل ہوگیا۔ آج اس کی پھیلی ہوئی شاخیں اور گھنا سایہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کبھی کسی بزرگ نے محبت، یاد اور اپنائیت کی ایک چھوٹی سی نشانی یہاں بوئی تھی، جو وقت کے ساتھ گاؤں کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن گئی۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ پشاور کی پیپل منڈی سے لایا گیا وہ ننھا سا پودا محض ایک درخت کا آغاز نہیں تھا، بلکہ گڑنگہ بالا کے پیپل حجرے کی ایک ایسی داستان کا نقطۂ آغاز تھا جس نے آنے والی نسلوں کو اپنے سائے میں اکٹھا کیا۔ آج جب اس درخت کے نیچے بیٹھ کر ماضی کو یاد کیا جاتا ہے تو اس کی ہر شاخ، ہر پتا اور ہر جڑ اُس بزرگ کی محبت اور اُس دور کی سادگی کی کہانی سناتی محسوس ہوتی ہے۔

پیپل حجرہ گڑنگہ بالا کے اتفاق و اتحاد کا روشن استعارہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دل جڑتے، فیصلے ہوتے اور روایتیں زندہ رہتی ہیں۔ بزرگوں کی دانائی یہاں چراغ کی مانند روشن رہتی اور نوجوانوں کی تربیت انہی محفلوں میں پروان چڑھتی۔ حجرہ صرف بیٹھک نہ تھا بلکہ ایک غیر رسمی درسگاہ تھا، جہاں احترام، صبر، برداشت اور بھائی چارے کے اسباق دیے جاتے تھے۔

اگر گاؤں میں کسی کے گھر ماتم برپا ہوتا تو یہی حجرہ صبر و ہمدردی کا گہوارہ بن جاتا۔ تین دن تک یہاں لوگوں کا تانتا بندھا رہتا۔ مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی جاتی، مسجد میں قرآن خوانی ہوتی اور لواحقین سے تعزیت کی جاتی۔ اس دوران گاؤں کے لوگ مل کر غمزدہ خاندان کا سہارا بنتے، کھانے پینے اور دیگر ضروری معاملات میں بھرپور تعاون کرتے۔ یہ روایت محض ایک سماجی رسم نہ تھی بلکہ اجتماعی ذمہ داری اور اخوت کا عملی مظاہرہ تھی۔

یہی وہ جگہ تھی جہاں خادی بابا، سید رحمان بابا، ریفان بابا، شیرزمان بابا، منقلب شاہ باچا صاحب، امام مسجد سید حبیب شاہ باچا مرحوم، چغرمٹی کے محی دین ترکھان، شیخ عبدالکریم بابا، عزیزگل بابا، اعظم خان ماما، زمانے ماما، سید احمد عرف بنگی، نورزادہ موچی، عبدالحمید، حاجی اعظم بابا ۔گل رحمان عرف گلان ماما، مجان ماما، آمین جان ماما، گلے ماما، گلفراز مرحوم، سفیرگل مرحوم، عبدالقہار بابا، قصاب دلبر، نائی دلبر، وارث خان ماما، صمد اور سیدگل، حاجی پوردل خان، آفریدی خان ماما، واصلے ماما، حاجی نظیم خان، مصلی ماما، شیخ رحمان، حاجی حسین خان مرحوم، عجب بابا، رشید بابا، مکرم ماما، جبار ماما، حاجی عبدالغفار خان مرحوم، شمشاد بابا، ہاشم بابا، قیوم ماما، تواب بابا، صنوبر قصاب، گل نور بابا، خائشتہ خان بابا محمد، ظریف خان بابا، فقیر محمد، جبین خان، حبیب لالا، زوطہ خان بابا، جانے بابا اور محمد اکبر ماما جیسے باوقار بزرگ بیٹھا کرتے تھے۔

ان نفیس اور سادہ دل لوگوں کی محفلیں محض گپ شپ تک محدود نہ تھیں بلکہ یہ حجرہ مشوروں، فیصلوں اور باہمی ہم آہنگی کا مرکز تھا۔ یہاں قہقہوں کی گونج بھی سنائی دیتی تھی اور سنجیدہ مسائل کے حل کی فضا بھی قائم رہتی تھی۔ بزرگوں کی متانت، نوجوانوں کا جذبہ اور بچوں کی شوخی — سب اسی سائے میں ایک خوبصورت توازن کے ساتھ پروان چڑھتے تھے۔

آج وہ عظیم ہستیاں اس دنیا میں موجود نہیں، مگر ان کی یادیں اس پیپل کے پتوں کی سرسراہٹ میں زندہ ہیں۔ جب ہوا چلتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ماضی کی محفل پھر سے سج گئی ہو، جیسے کسی بزرگ کی نرم اور پُرسکون آواز نصیحت کر رہی ہو، جیسے کسی کی مسکراہٹ اب بھی فضا میں بکھری ہوئی ہو۔
پیپل کا یہ درخت محض ایک درخت نہیں بلکہ گاؤں کی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ یہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اصل دولت زمین و جائیداد نہیں بلکہ وہ رشتے ہیں جو اخلاص اور محبت سے جڑے ہوں۔ وقت کی گرد بہت کچھ مٹا دیتی ہے، مگر خلوص سے بنے رشتے اور روایتیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔

آج کی تیز رفتار دنیا میں جہاں لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں، گڑنگہ بالا کا پیپل حجرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشرے کی اصل طاقت اتحاد، ہمدردی اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ یہ حجرہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک زندہ سبق ہے کہ اپنی ثقافت، روایت اور اجتماعی شناخت کو سنبھال کر رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ ان تمام مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اس تاریخی پیپل حجرے کو ہمیشہ آباد و شاد رکھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے