انقلابِ ایران: تاریخ سے حال تک

ایران: نظام اور انقلاب
تحریر: سید نذیر شاہ
ایران ایک اسلامی جمہوریہ ہے، جس کی بنیاد 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد رکھی گئی۔ یہ دراصل ایک مخلوط اور ہائبرڈ نظام ہے جس میں عوام بھی ووٹ دیتے ہیں، مگر حتمی اور آخری اختیار مذہبی قیادت کے پاس ہوتا ہے۔ ایران کا یہ منفرد اور پیچیدہ سیاسی ڈھانچہ ایک ایسا دوہرا نظام پیش کرتا ہے جس میں منتخب عوامی نمائندے اور غیر منتخب مذہبی مقتدرہ ایک ساتھ کام کرتے ہیں، لیکن اکثر ان کی ترجیحات اور اہداف ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں۔

جمہوری قیادت اور مذہبی مقتدرہ کے مابین یہ کھچاؤ ایران کے ہائبرڈ نظام کا سب سے حساس پہلو ہے۔ ایک طرف عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والا صدر اور پارلیمنٹ ہوتے ہیں، جنہیں عوامی توقعات پر پورا اترنے، معاشی سدھار لانے اور بین الاقوامی تنہائی ختم کرنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مذاکراتی میز پر لچک دکھانی پڑتی ہے، تو دوسری طرف جب بھی ایرانی صدر یا وزیرِ خارجہ ایسی کوئی کوشش کرتے ہیں، تہران کے اقتدار کے دوسرے مرکز اور پاسدارانِ انقلاب سے انقلابی اصولوں کی پکار سنائی دیتی ہے جو کسی بھی سمجھوتے کو نظریاتی پسپائی سے تعبیر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دوہرا نظام عالمی برادری کے ساتھ کسی بھی مستقل معاہدے یا مذاکرات کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر ابھرتا ہے۔ ایران کے لیے اپنی انقلابی شناخت برقرار رکھنے اور ایک نارمل ریاست کے طور پر دنیا میں سامنے آنے کے درمیان توازن قائم رکھنا ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، کیونکہ مذہبی قیادت کے نزدیک امریکہ اور مغرب سے مستقل اور گہرا سمجھوتہ ان کے اس نظریاتی ستون کو کمزور کر سکتا ہے جس پر 1979ء کے انقلاب کی عمارت کھڑی ہے۔

ایران میں politics اور مذہبی قیادت کے مابین جاری رہنے والی کشمکش محض وقتی یا جدید دور کا کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پسِ منظر میں صدیوں پر محیط ایک ایسی تاریخ پوشیدہ ہے جس کی جڑیں 1979ء کے اسلامی انقلاب سے بھی بہت پیچھے تک جاتی ہیں۔ اس پیچیدہ اور ہمہ جہت کشمکش کے فکری و سیاسی ارتقاء کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے ہمیں سولہویں صدی کے صفوی دور کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں سے ایرانی ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ صفوی سلطنت کے بانی شاہ اسماعیل اول، جو 1487ء کو پیدا ہوئے، نے نو عمری میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی اور بکھرے ہوئے ایران کو مضبوط مرکزیت اور ایک نئی جغرافیائی شناخت دی بلکہ پہلی بار مکتبِ اہلِ بیت کو باقاعدہ ریاستی مذہب قرار دے کر ایک ایسی بنیاد رکھ دی جس نے علما اور فقہا کو حکومتی ایوانوں میں ایک باوقار اور با اثر طبقے کے طور پر متعارف کرایا۔

ابتدا میں صفوی حکمرانوں نے مذہبی علما کی سرپرستی اس غرض سے کی تاکہ وہ اپنی حکومت کے لیے مذہبی و اخلاقی جواز (مشروعیت) حاصل کر سکیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علما نے اس سرکاری سرپرستی کو اپنی مستقل سیاسی اور سماجی طاقت میں ڈھال لیا۔ یہی وجہ تھی کہ قاجار دور تک آتے آتے علما کی یہ قوت اس قدر مستحکم ہو گئی کہ وہ عوامی سطح پر ایک متوازی قیادت کے طور پر ابھرنے لگے۔ تمباکو تحریک (1891ء) اور بعد ازاں (1905ء-1911ء) تحریکِ مشروطیت (آئینی تحریک) جیسے تاریخی واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ علما اب محض گوشہ نشین مبلغ نہیں رہے تھے، بلکہ وہ بادشاہت کے سامنے ایک توانا سیاسی دیوار بن چکے تھے جنہوں نے عوامی حقوق اور استعمار دشمنی کے نام پر شاہی اقتدار کو چیلنج کرنا شروع کر دیا تھا۔

بیسویں صدی میں جب پہلوی خاندان برسرِ اقتدار آیا، تو رضا شاہ پہلوی اور ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی نے ایران کو ایک جدید، صنعتی اور قوم پرست ریاست بنانے کا عزم کیا۔ رضا شاہ نے ترکی کے مصطفیٰ کمال اتاترک کی طرز پر سخت لادینی پالیسیاں نافذ کیں، مغربی لباس لازمی قرار دیا اور خواتین کے حجاب پر پابندی عائد کر دی۔ ان اقدامات کا مقصد ایران کو یورپی طرز پر ڈھالنا تھا، جس کے لیے علما کے اثر و رسوخ کو عدلیہ، بیوروکریسی اور تعلیمی نظام سے نکالنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے۔ اس دوران شاہی اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے ساوک جیسے بدنام زمانہ خفیہ ادارے کا سہارا لیا گیا، جس نے سیاسی مخالفین پر بدترین تشدد، کڑی نگرانی اور جبر کے ذریعے دو دہائیوں تک خوف کی فضا قائم رکھی۔

مگر اس جارحانہ جدیدیت پسندی اور لادینی پالیسیوں کا نتیجہ شاہی مقتدرہ کی توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔ ان جابرانہ اقدامات نے علما کو مزید متحد کر دیا اور انہیں عوامی غیظ و غضب کو منظم کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا۔ یہی وہ مسلسل سیاسی عمل تھا جو بالآخر 1979ء کے انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوا، جس کی بے باک قیادت آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کی۔ اس تاریخی انقلاب کے دوران معاشرے کے مختلف فکر و عمل سے تعلق رکھنے والے طبقات، جن میں روایتی علما، بائیں بازو کی سوشلسٹ جماعتیں، بازاری تاجر اور نظریاتی طلبہ شامل تھے، ایک عارضی اور نازک اتحاد میں بندھ گئے جن کا مشترکہ ہدف ایران میں شہنشاہیت کا خاتمہ تھا۔ اس کشمکش میں جہاں نامور ایرانی مفکر ڈاکٹر علی شریعتی نے نوجوانوں کو فکری بیداری دی تو دوسری طرف آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اسلام کو ایک باقاعدہ ریاستی اور حکومتی نظام کی بنیاد بنایا، جس کا نتیجہ اسلامی انقلاب کی صورت میں نکلا اور یوں انہوں نے اس جدوجہد کو عملی شکل دے کر اسلامی ریاست قائم کی۔

اسی عبوری مرحلے پر آیت اللہ خمینی نے "ولایتِ فقیہ” کا ایک نیا اور انقلابی نظریہ پیش کیا، جس کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ غیبتِ امام کے دور میں ایک جید اور عادل فقیہ کو ہی ریاست کا اصل سربراہ ہونا چاہیے۔ یہ نظریہ اگرچہ جدید ایران کی بنیاد بنا، مگر اس پر تمام مذہبی حلقوں کا اتفاق نہیں تھا۔ آیت اللہ شریعتمداری جیسے بلند پایہ علما کا یہ پختہ مؤقف تھا کہ علما کا اصل مقام سماجی و اخلاقی رہنمائی ہے اور انہیں براہِ راست سیاسی اقتدار اور انتظامی امور میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ فکری اختلاف بہت جلد ایک کھلی سیاسی کشمکش میں بدل گیا، جس کے نتیجے میں نظام کی مخالفت کرنے والے کئی جید علما کو نظر بند کر دیا گیا اور ولایتِ فقیہ کو نئے آئین کی روح بنا کر نافذ کر دیا گیا۔

انقلاب کے بعد مرتب ہونے والے اس نئے ڈھانچے میں رہبرِ اعلیٰ (سپریم لیڈر) کو ایک ایسی ماورائی حیثیت دی گئی جس کے پاس مسلح افواج کا کمانڈر انچیف، عدلیہ پر حتمی اثر و رسوخ، میڈیا کی نگرانی اور ملک کے تمام بڑے اسٹریٹجک فیصلے کرنے کے لامحدود اختیارات موجود ہیں۔ اس کے برعکس، صدر اور پارلیمنٹ اگرچہ براہِ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، لیکن ان کے اختیارات کی حدیں سپریم لیڈر کے اداروں کے سامنے بہت محدود ہیں۔ مجلسِ شورائے اسلامی (ایرانی پارلیمنٹ) اگرچہ قانون سازی اور بجٹ سازی کا اختیار رکھتی ہے، لیکن اس کی ہر جنبشِ قلم شورائے نگہبان کی محتاج ہوتی ہے۔ یہ 12 رکنی طاقتور کونسل، جس کے نصف ارکان کا انتخاب براہِ راست سپریم لیڈر کرتا ہے، نہ صرف قوانین کو ویٹو کر سکتی ہے بلکہ انتخاب لڑنے والے امیدواروں کی اہلیت کو بھی پرکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مجلسِ خبرگانِ رہبری اور مجمع تشخیص مصلحتِ نظام کا وجود بھی نہایت اہم ہے جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ریاست کی انقلابی شناخت پر کوئی آنچ نہ آئے۔ جس کی وجہ سے ایران کا پورا سیاسی عمل ایک خاص نظریاتی دائرے کے اندر قید ہو کر رہ گیا ہے۔

اس منفرد سیاسی منظرنامے کا ایک اہم ترین رخ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) یعنی پاسدارانِ انقلاب کا قیام ہے۔ یہ ادارہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد آیت اللہ روح اللہ خمینی کے حکم پر ایک طاقتور فوجی اور نظریاتی تنظیم کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جو آج ایران کے سیاسی, عسکری اور اقتصادی نظام میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور براہِ راست سپریم لیڈر کو جواب دہ ہے۔ اگرچہ ابتدا میں یہ ادارہ محض ایکایماندار محافظ دستے کے طور پر وجود میں آیا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایرانی ریاست کے دفاعی، معاشی اور سیاسی نظام کا سب سے طاقتور ستون بن کر ابھرا۔

پاسدارانِ انقلاب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ روایتی فوج کے برعکس براہِ راست رہبرِ اعلیٰ کے تابع ہے، اور اس کا دائرۂ کار صرف جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں بلکہ انقلاب کے نظریاتی تحفظ، داخلی سلامتی اور علاقائی اثر و رسوخ کے فروغ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس ادارے نے ایران کی معیشت کے بڑے حصوں اور اسٹریٹجک فیصلہ سازی میں اس قدر نفوذ حاصل کر لیا ہے کہ اب ایک طرف حکومت اور پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی اس کے سابق افسران کا گہرا سیاسی اثر و رسوخ واضح طور پر نظر آتا ہے تو دوسری طرف، ایران کی خارجہ پالیسی اور علاقائی رسوخ کا پورا نیٹ ورک، جسے "محورِ مزاحمت” کہا جاتا ہے، وہ بھی منتخب حکومت یا وزیرِ خارجہ کے بجائے براہِ راست پاسدارانِ انقلاب کی "قدس فورس” کے ہاتھ میں رہا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی، اور عراق و شام میں مختلف مسلح گروہوں کے ساتھ رابطے اور اسٹریٹجک فیصلے قدس فورس ہی طے کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ دنیا کے سامنے جو سفارتی بیانیہ پیش کرتی ہے، زمین پر پاسدارانِ انقلاب کے اقدامات بسا اوقات اس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں، جو اس ہائبرڈ نظام کے تضادات اور طاقت کے اصل مراکز کو دنیا پر عیاں کرتے ہیں۔

فروری 2026ء سے امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ اور رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت دیگر اعلیٰ قیادت کی شہادت جیسے مخدوش حالات میں ایران کا یہ ہائبرڈ نظام آج ایک کڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ تاہم ان غیر معمولی اور بحرانی واقعات سے یہ نتیجہ قطعاً نہیں نکالا جا سکتا کہ وہاں کا ریاستی ڈھانچہ منہدم ہو چکا ہے، کیونکہ ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا ہے، جب کہ دوسری طرف منتخب صدر، وزیرِ خارجہ اور پارلیمنٹ بھی اپنے وجود کے ساتھ متحرک ہیں اور بیرونی دنیا سے مسلسل مذاکرات اور سفارتی دورے کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظام شدید دباؤ کے باوجود اپنا مضبوط کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے، لیکن اب اس کے لیے کسی بھی ممکنہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ سے مستقل محفوظ رہنا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ تہران کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں سوچ کا فرق روز بروز گہرا ہو رہا ہے۔

اس تضاد کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ جہاں منتخب جمہوری قیادت ملکی معیشت کو مکمل تباہی سے بچانے اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارت کاری اور بین الاقوامی سمجھوتوں کو ناگزیر سمجھتی ہے، وہاں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور مقتدر عسکری حلقے کسی بھی قسم کی لچک کو نظریاتی پسپائی اور اپنے رہبرِ اعلیٰ اور سینیئر کمانڈرز کے خون سے بے وفائی قرار دیتے ہیں۔ عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ اس کٹھن وقت میں بقا صرف جارحانہ مزاحمت اور عسکری جواب میں ہے، جبکہ سفارتی محاذ پر سرگرم سیاست دان ملک کو تنہائی سے نکالنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اقتدار کے ان دو طاقتور مراکز کے مابین اسٹریٹجک فیصلوں پر بڑھتی ہوئی یہ خلیج نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی پہلا بڑا امتحان ہے کہ وہ ان دونوں متصادم سوچوں کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ ایسے نازک حالات میں قوموں کے اندر عموماً یہی سوچ غالب آتی ہے کہ پہلے بیرونی خطرات کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جائے اور داخلی اختلافات کو بعد کے لیے اٹھا رکھا جائے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مسلسل کشیدگی کے نتیجے میں عام ایرانی کے قوم پرستانہ جذبات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بیرونی حملوں نے پوری قوم کو یکجا کر دیا ہے۔ اس جنگی ماحول میں ایرانی عوام کے اندر یہ واضح سوچ ابھر کر سامنے آئی ہے کہ نظام کی خامیاں، جمہوری قیادت اور مذہبی مقتدرہ کے مابین کھچاؤ، یا کوئی بھی داخلی اختلافات سراسر ان کا اپنا اندرونی معاملہ ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ تہران کے اقتدار کے ایوانوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اس نازک ترین موقع پر کسی بھی قسم کا داخلی اختلاف، فکری انتشار اور اختیارات کی یہ باہمی رسہ کشی خود ایرانی قوم کے وسیع تر مفاد میں ہرگز نہیں ہے، کیونکہ اندرونی خلفشار بیرونی دشمنوں کے عزائم کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔ اگرچہ اقتصادی پابندیاں، افزودہ یورینیم کا مسئلہ، امریکی مذاکرات، معاہدے اور دوبارہ حملے کی دھمکیاں بظاہر ایک انتہائی مشکل اور پریشان کن صورتِ حال پیش کرتی ہیں، تاہم اسی ماحول نے ایرانی معاشرے میں ایک بے لچک قومی شعور، خود انحصاری اور مزاحمت کا وہ فولادی جذبہ بھی پیدا کیا ہے جو انہیں ایک متحد اور انقلابی قوم کے طور پر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت
QNN World

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے