18 ماہ سے ادائگیاں معطل: ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ نے حکومتِ پنجاب کو حتمی نوٹس بھجوا دیا

ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ /سٹی رپورٹر) حکومت پنجاب کے فلیگ شپ پروگرام "ستھرا پنجاب” کے تحت صوبے کی 21 تحصیلوں میں صفائی کی خدمات سرانجام دینے والے جوائنٹ وینچر ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ ڈویژن نے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی جانب سے 18 ماہ سے زائد عرصے سے واجبات کی عدم ادائیگی اور غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے باقاعدہ قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔

ادارے کی جانب سے ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو معاہدے کی شقوں کے تحت ڈیفالٹ اور باقاعدہ تنازع (ڈسپیوٹ) کے نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ آڈٹ شدہ مالیاتی ریکارڈ کے مطابق کمپنی نے 50 ارب 7 کروڑ روپے سے زائد کے انوائسز جمع کروائے، جن میں سے محض 33 ارب 3 کروڑ روپے (تقریباً 66 فیصد) جاری کیے گئے، جبکہ 15 ارب 19 کروڑ روپے سے زائد کی بنیادی رقم بغیر کسی قانونی جواز کے روک لی گئی۔

اس کے علاوہ ٹیکس کے فرق، کرایہ جات اور اضافی افرادی قوت کے مد میں 2 ارب 30 کروڑ روپے سے زائد کے کلیمز ملا کر مجموعی واجب الادا رقم 17.5 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ معاہدے اور پنجاب پروکیورمنٹ رولز کے مطابق بلوں کی ادائیگی 30 دن کے اندر لازمی تھی، تاہم پچھلے چھ سے آٹھ ماہ سے صرف 50 سے 70 فیصد عبوری ادائگیاں کی جا رہی ہیں،

جبکہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے مارچ اور اپریل 2025 کے بل بھی 18 ماہ سے التوا کا شکار ہیں۔ادائگیاں نہ ہونے کے باعث وینڈرز، گاڑیوں کے مالکان اور آئل کمپنیوں کے اربوں روپے کے بقایا جات جمع ہو گئے، جس کے نتیجے میں ڈیزل فراہم کرنے والی کمپنیوں اور مشینری آپریٹرز نے کام بند کر دیا۔

اس کے علاوہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں نے بغیر کسی حساب کتاب کے تقریباً 4 ارب روپے نا معلوم کٹوتیوں کے نام پر کاٹ لیے۔ معاہدے کے تحت ویسٹ ٹرانسفر پوائنٹس کے لیے سرکاری زمین فراہم کرنا کلائنٹ کی ذمہ داری تھی، مگر زمین نہ ملنے پر ڈائیوو نے ذاتی فنڈز سے زمین حاصل کی، اس کے باوجود روزانہ 1 لاکھ روپے کا غیر قانونی جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ PITB کے پورٹل کی تکنیکی خرابیوں کا ملبہ بھی سینیٹیشن عملے پر ڈال کر کروڑوں کے ناجائز جرمانے لگائے گئے۔

تحصیل ڈیرہ غازی خان کی صورتحال بیان کرتے ہوئے پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ڈیرہ غازی خان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے جولائی 2025 سے اگست 2026 تک کے 67 کروڑ 41 لاکھ روپے کے بل مکمل طور پر روک رکھے ہیں۔ ڈائیوو نے ڈی جی خان میں صفائی کے جدید نظام پر 46 کروڑ 97 لاکھ روپے سے زائد کی مجموعی سرمایہ کاری کی، جو اب ادائگیاں نہ ہونے سے داؤ پر لگ چکی ہے۔

اس تناظر میں ڈائیوو نے شوکاز نوٹس کے جواب میں باضابطہ طور پر ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (DRC) میں درخواست دائر کر دی ہے۔ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ نے اپنے قانونی الٹی میٹم میں 7 دن کے اندر بلا تنازعہ رقوم اور بقایا جات جاری کرنے، 14 دن کے اندر 15.19 ارب روپے کی مفاہمت اور 28 دن کے اندر حتمی فیصلے کا مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر معاہدہ منسوخ کر کے ثالثی عدالتوں سے رجوع کرنے کا انتباہ دیا ہے۔

انتظامیہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات سے فوری مداخلت اور فنڈز کے اجراء کی اپیل کی ہے تاکہ سینیٹیشن ورکرز کی تنخواہیں اور وینڈرز کے واجبات ادا کر کے صفائی کا نظام بحال کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے