ری سیٹ بٹن
تحریر: سید نذیر شاہ
جب بھی نظام کی تبدیلی یا سسٹم ری سیٹ کی بات ہوتی ہے تو ہماری نظر فوراً صوبائی اور قومی ایوانوں اور وزیراعظم ہاؤس کی طرف اٹھ جاتی ہے یا پھر آئین کی کسی شق اور الیکشن کی طرف چلی جاتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ایوانوں میں نئے چہرے آ جائیں اور اقتدار کی بساط پر نئے مہرے سج جائیں تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ یہ ہماری سب سے بڑی خوش فہمی ہے۔ جن لوگوں اور ان کی پالیسیوں کی وجہ سے موجودہ سسٹم ناکارہ ہوا، وہی اگر آج اس کی ری سیٹ کا مژدہ سنائیں تو اس سے بڑی سادگی بھلا اور کیا ہو سکتی ہے۔ جب تک کسی بھی ری سیٹ کا اصل مقصد عام آدمی کی فکری آزادی، معاشی آسودگی اور عزتِ نفس کی بحالی نہ ہو، تب تک ہر کوشش اقتدار کا ایک نیا کھیل اور چہروں کا ادل بدل ہی رہے گی۔
عمرانیات اور صحافت کے ماہرین ایک بات پر کم و بیش متفق ہیں کہ جب معاشرہ طاقتور طبقے کے بنائے ہوئے بیانیے کو چپ چاپ مان لیتا ہے تو کوئی بھی سیاسی تبدیلی صرف ایک ظاہری تماشا بن کر رہ جاتی ہے۔ یعنی چہرے بدل جاتے ہیں مگر سوچ اور نظام وہی رہتا ہے جس نے عام آدمی کو پہلے بھی بے بس رکھا تھا۔ اسی کیفیت کو ثقافتی تسلط کہا جاتا ہے جہاں حکمران طبقہ اپنے مفاد کو پورے معاشرے کی عقل اور اخلاق کا اصول بنا کر یوں پیش کرتا ہے کہ لوگ اسے اپنی ہی آزاد سوچ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ان کی رائے دراصل کسی اور نے بنائی ہے۔ معیشت کی دنیا میں اس سے ملتا جلتا مسئلہ ایلیٹ کیپچر (Elite Capture) کہلاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ترقی کے وسائل اور ریاست کی پالیسیاں چند طاقتور ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہیں، منصوبے اور رعایتیں انہی کے حصے میں آتی ہیں جن کی پہنچ ایوانوں تک ہو اور عام آدمی کے حصے میں صرف وعدے اور تقریریں رہ جاتی ہیں۔
ایک مشہور صحافی نے ایک صدی پہلے لکھا تھا کہ انسان دنیا کو براہِ راست نہیں دیکھتا بلکہ ذرائع ابلاغ کی بنائی ہوئی تصویروں سے دیکھتا ہے اور یہی تصویریں اس کی پسند ناپسند اور سیاسی فیصلوں کی شکل طے کرتی ہیں۔ جب میڈیا، نصاب اور سماجی ادارے برسوں ایک ہی زاویۂ نظر دہراتے رہیں تو شہری کا تنقیدی شعور آہستہ آہستہ سو جاتا ہے۔ آج سوچ کو زور زبردستی سے نہیں دبایا جاتا بلکہ خبروں کے مالک اور اشتہار دینے والے خاموشی سے اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال دیتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں بیانیوں کا دباؤ بہت شدید ہے، یہ عمل روزمرہ زندگی میں گہرائی تک اتر چکا ہے۔ نیوز رومز میں سنسنی خیز لفظوں کا انتخاب، چند خبروں کی بار بار تکرار اور بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانا شہری کی ترجیحات خود بخود طے کر دیتا ہے۔ جب صحت، تعلیم اور روزگار کی جگہ سیاسی جوڑ توڑ اور جذباتی بیانیے اسکرین پر چھائے رہیں تو لوگ اپنے اصل مسائل پر سوال اٹھانے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھتے ہیں۔
جب طاقتور طبقہ عوام کی رضامندی کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جائے تو اسے کسی کھلے جبر یا ڈنڈے کی ضرورت نہیں رہتی۔ پھر نہ کسی کو زبردستی خاموش کرانا پڑتا ہے نہ کسی پر پہرہ بٹھانا پڑتا ہے کیونکہ لوگ خود ہی اس بات پر یقین کر چکے ہوتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہی درست ہے اور اس کے سوا کوئی راستہ ممکن نہیں۔ اس مرحلے پر عام آدمی اپنی غربت کو نصیب کا لکھا سمجھنے لگتا ہے اور اپنی محرومی کا ذمہ دار اپنے جیسے کسی دوسرے کمزور کو ٹھہرانے لگتا ہے۔ یوں ناانصافی کی حفاظت کے لیے کسی باہر کے پہرے دار کی ضرورت ہی نہیں رہتی کیونکہ لوگ خود اس کے نگہبان بن جاتے ہیں۔
مگر تاریخ گواہ ہے کہ ذہنوں پر قبضہ چاہے کتنا ہی گہرا ہو، ہمیشہ قائم نہیں رہتا اور معلومات کے اس دور میں تو اس کی عمر اور بھی کم ہو گئی ہے۔ کبھی خبر چند اخباروں اور دو چار چینلوں کی مٹھی میں بند تھی اور عوام وہی دیکھتے تھے جو انہیں دکھایا جاتا تھا۔ آج ہر ہاتھ میں موبائل فون ہے اور ہر شخص خبر دیکھنے کے ساتھ ساتھ خبر بنانے اور پھیلانے والا بھی ہے۔ سوشل میڈیا نے اگرچہ افواہوں اور گمراہی کو بھی ہوا دی ہے اور سچ جھوٹ کا فرق کبھی کبھی دھندلا جاتا ہے، لیکن اسی انبار میں فرد کو ایک ایسی طاقت بھی ملی ہے جو پہلے کبھی میسر نہ تھی۔ جس دن عام شہری اس طاقت کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا سیکھ لے گا اور ہر سنی سنائی بات ماننے کے بجائے سچ تک پہنچنے کی محنت کرے گا، اسی دن طاقتور طبقے کا بنا بنایا سانچہ ٹوٹنا شروع ہو جائے گا۔
سسٹم ری سیٹ کوئی ایسا بٹن نہیں جسے دباتے ہی دہائیوں کی خرابی ایک رات میں ٹھیک ہو جائے۔ سچی تبدیلی تب آئے گی جب عام پاکستانی محسوس کرے کہ ایوانوں کے چہرے اور نظام کے قاعدے بدلنے سے خود اس کی اپنی زندگی بھی بہتر ہوئی ہے۔ اگر اس ری سیٹ کا مقصد شہری کے لیے آسانیاں پیدا کرنا اور سرخ فیتہ شاہی کا خاتمہ ہے تو ایسا بٹن بلا جھجک دبانا چاہیے۔ مگر اس کی کامیابی کا سب سے سچا پیمانہ کسی وزیر کا بیان نہیں بلکہ عام آدمی کا گھریلو بجٹ ہے۔ جب تک بجلی، گیس، پٹرول اور دوائی اس کی پہنچ میں نہیں آتے اور اس کے بچوں کو تعلیم اور تھانے کچہری میں برابر کا انصاف نہیں ملتا، تب تک یہ تبدیلی ایوانوں کی تو ہو سکتی ہے عام پاکستانی کی نہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اصل ری سیٹ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں انسان دوسروں کے بنائے ہوئے بیانیے پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کے بجائے اپنے بیدار شعور سے سوال اٹھانے کی ہمت کرتا ہے۔