دہلی کی ’ریس کورس‘ مسجد کو منہدم کیے جانے کا خطرہ، جگہ خالی کرنے کا نوٹس

نئی دہلی(کیو این این ورلڈ)نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب واقع تاریخی ریس کورس مسجد کو لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے غیر مجاز قرار دیتے ہوئے چھ دن کے اندر خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ نوٹس 19 اکتوبر 2026 کے آس پاس دیا گیا۔

مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی تقریباً 7 اکتوبر سے منقطع کر دی گئی ہے جبکہ نمازیوں کی آمد و رفت پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس سے نماز کی ادائیگی مشکل ہو گئی ہے۔مسجد تقریباً سو سے ڈیڑھ سو سال پرانی بتائی جاتی ہے اور اس میں تقریباً 800 نمازیوں کی گنجائش ہے۔ یہ نئی دہلی میونسپل کونسل کی تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل ہے اور 1977 کے دہلی گزٹ میں وقف جائیداد کے طور پر درج ہے۔

مسجد کے امام مولانا ہارون نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس نے آئندہ ہفتے مسجد کو شہید کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق مسجد کی دیکھ بھال کے باوجود بنیادی سہولتیں کاٹ دی گئی ہیں اور دہلی وقف بورڈ نے مناسب مدد نہیں کی۔

Race Course Mosque in Delhi

جمعیت علمائے ہند کے وفد نے اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو سے ملاقات کر کے مسجد اور ملحقہ قبرستان کے تحفظ کی اپیل کی۔ وفد نے کہا کہ یہ مقام این ڈی ایم سی کی ہیریٹیج فہرست اور اقلیتی امور کی وزارت کی فہرست میں موجود ہے لہٰذا قانونی عمل مکمل کیے بغیر کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی وزیر سے مداخلت کی درخواست کی اور وقف بورڈ کی عدم فعالیت پر تنقید کی۔

Race Course Mosque in Delhi

کشمیری حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے نوٹس کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر قانونی طور پر تسلیم شدہ مسجد کو بھی تحفظ نہیں دیا جا سکتا تو دیگر عبادت گاہوں کی کیا ضمانت باقی رہتی ہے۔

لینڈ اینڈ ڈیویلپمنٹ آفس کا موقف ہے کہ یہ جگہ سرکاری زمین پر قائم ہے اور غیر مجاز ہے۔ یہ کارروائی ریس کورس روڈ کے علاقے میں جاری وسیع تر انخلا مہم کا حصہ ہے جس میں جھگی جھوپڑیوں کو بھی ہٹایا جا رہا ہے اور دہلی ہائی کورٹ نے کچھ معاملات میں منظوری دی ہے۔ اس سے قبل علاقے میں ریس کلب کی کچھ عمارتیں بھی گرا دی گئی تھیں۔

یہ واقعہ بھارت میں مسلم عبادت گاہوں سے متعلق طویل تنازعات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ 1992 میں اودھیا میں بابری مسجد کو گرا دیا گیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی۔ حالیہ برسوں میں گیان واپی مسجد، سہارنپور اور دیگر مقامات پر بھی مساجد کو ہندوتوا کی پیروکار مودی حکومت شہید کرچکی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے