لائبہ فراڈ کیس کا مرکزی ملزم ساتھیوں کی گولیوں سے جاں بحق

اسلام آباد( کیو این این ورلڈ)اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا جانے کی خواہشمند طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے مقدمے کا مرکزی ملزم محمد نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس ٹیم ملزم نعمان کو نشاندہی پر برآمدگی کے لیے لے کر جا رہی تھی کہ تھانہ رمنا کی حدود میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار ملزمان نے اسے چھڑوانے کے لیے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے دوران ملزم نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہو گیا۔ زخمی نعمان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں علاج کے دوران اس نے دم توڑ دیا۔

ترجمان نے کہا کہ پولیس ٹیم بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر حفاظتی اقدامات کے باعث محفوظ رہی جبکہ ملزم کے باقی ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔خیال رہے کہ لائبہ اعجاز انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی فزکس کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ تھیں۔ انہوں نے امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے اور اسکالرشپ کے خواب میں ملزم نعمان سے رابطہ کیا تھا۔

نعمان نے خود کو اعلیٰ سرکاری اہلکار اور کنسلٹنٹ ظاہر کرتے ہوئے لائبہ اور ان کے خاندان سے امریکی ویزا، سکالرشپ اور یونیورسٹی داخلے کے نام پر تقریباً 93 لاکھ روپے حاصل کیے۔

ایف آئی آر کے مطابق اس نے جعلی ایڈمیشن لیٹرز، سکالرشپ آفر لیٹرز اور فیس کی رسیدیں فراہم کیں۔ فراڈ کا انکشاف ہونے اور شدید ذہنی اذیت کے بعد لائبہ نے 9 اکتوبر کو اسلام آباد کے جی-10 علاقے میں درخت سے پھندا لگا کر خودکشی کر لی۔

ان کا آخری پیغام اپنے ماموں کو تھا کہ والد کو فراڈ کے بارے میں نہ بتایا جائے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اس واقعے کا نوٹس لیا تھا اور فوری کارروائی کے احکامات دیے تھے۔

ایف آئی اے اور پولیس نے مقدمہ درج کیا اور نعمان کو گرفتار کر کے جسمانی ریمانڈ پر رکھا تھا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس نے دیگر افراد سے بھی اسی طرح فراڈ کیا تھا۔ اب مرکزی ملزم کی ہلاکت کے بعد دیگر ساتھیوں کی تلاش جاری ہے اور کیس کی تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے