پنجاب کے تعلیمی بورڈز، آئٹم بینک اور دیہی طلبہ، زمینی حقائق
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
حال ہی میں سید نذیر شاہ صاحب کا ایک فکر انگیز کالم ”پنجاب کے تعلیمی بورڈز“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ موصوف نے پنجاب کے نو ڈویژنل امتحانی بورڈز کے دائرہ کار، رٹہ سسٹم کے نقصانات، آئٹم بینک کے تصور، پیپر ری چیکنگ کے روایتی طریقوں اور نادرا کے ساتھ ڈیٹا انٹیگریشن جیسے اہم امور پر بڑی خوبصورتی اور وضاحت سے روشنی ڈالی ہے۔ کالم کا بنیادی نکتہ بالکل درست اور قابلِ تحسین ہے کہ امتحانات کا اصل مقصد طلبہ کی محض یادداشت کی جانچ نہیں بلکہ ان کی فہم، تجزیاتی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی استعداد کو پرکھنا ہونا چاہیے۔ یہ نظریاتی بات کسی بھی ترقی یافتہ تعلیمی نظام کی روح ہے۔ لیکن جب ہم اس خوبصورت اور مثالی منظرنامے کو پاکستان بالخصوص پنجاب کے دیہی، پسماندہ اور وسائل سے محروم علاقوں کے زمینی حقائق کی عینک سے دیکھتے ہیں تو تصویر کا ایک بالکل مختلف اور کافی حد تک تلخ رخ سامنے آتا ہے۔
سید نذیر شاہ صاحب نے آئٹم بینک اور ڈیجیٹل امتحانی نظام کو موجودہ مسائل کا حل قرار دیا ہے۔ فن لینڈ، سنگاپور یا جنوبی کوریا جیسے ممالک میں یہ ماڈل واقعی کامیاب رہا ہے کیونکہ وہاں بنیادی انفراسٹرکچر، بجلی، انٹرنیٹ، ڈیوائسز اور استادوں کی تربیت پہلے سے موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا بنیادی ڈھانچہ اس جدید نظام کا متحمل ہو سکتا ہے؟ ذرا جنوبی پنجاب کے ریتلے دیہات، ڈی جی خان، راجن پور، مظفرگڑھ یا بہاولپور کے دور افتادہ علاقوں کا حال دیکھیے۔ وہاں آج بھی سینکڑوں سرکاری سکول ایسے ہیں جہاں چار دیواری نہیں، بجلی کا کنکشن نہیں، صاف پینے کا پانی نہیں اور بیت الخلاء تک موجود نہیں۔ انٹرنیٹ کا سگنل حاصل کرنے کے لیے بچے ٹین کی چھتوں، درختوں یا پہاڑی ٹیلے پر چڑھتے ہیں۔ ایک غریب دیہاڑی دار مزدور، جو روزانہ کم وبیش 1000 روپے کما کر گزر بسر کرتا ہے، اپنے بچے کو سمارٹ فون یا لیپ ٹاپ خرید کر دینے کی سکت نہیں رکھتا۔ ایسے ماحول میں آئٹم بینک پر مبنی ڈیجیٹل پیپرز، آن لائن مشقیں یا کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ کس کے لیے کارآمد ہوں گے؟
یہ نظام شہروں کے پرائیویٹ ایلیٹ سکولوں اور اشرافیہ کے بچوں کے لیے تو سہولت کا باعث بن سکتا ہے جو ہر قسم کی سہولیات سے لیس ہیں۔ لیکن ایک پسماندہ گاؤں کے ذہین مگر وسائل سے محروم طالب علم کے لیے یہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ جب یکدم ہائی ٹیک اور ٹیکنالوجی بیسڈ امتحانی نظام زبردستی لاگو کیا جائے گا تو دیہی علاقوں کے لاکھوں بچے معیارِ تعلیم کے اس مصنوعی طوفان کی زد میں آ کر تعلیمی دوڑ سے باہر ہو جائیں گے۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ ”یکساں تعلیمی معیار“ کا نعرہ محض ایک مکروہ مذاق بن کر رہ جائے گا۔ شہری اور دیہی طلبہ کے درمیان پہلے سے موجود فاصلہ مزید بڑھ جائے گا اور طبقاتی تقسیم مزید گہری ہو گی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ داخلہ ٹیسٹوں جیسے ایم ڈی کیٹ اور بورڈ کے امتحانات میں مارکنگ کے تضادات کو ختم ہونا چاہیے۔ ری چیکنگ کے نظام میں ڈیجیٹل کاپی فراہم کرنا اور شفافیت لانا خوش آئند اصلاحات ہیں۔ لیکن پالیسی سازوں کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ کسی بھی عمارت کی چھت سنوارنے سے پہلے اس کی بنیادیں مضبوط کرنا پڑتی ہیں۔ اگر بنیادیں کچی ہوں تو خوبصورت چھت بھی گر جائے گی۔ ہمارے دیہی سکولوں کی بنیادیں آج بھی کچی ہیں۔ جب تک ان بنیادوں کو مضبوط نہیں کیا جاتا، جدید امتحانی نظام محض ایک دکھاوا بن کر رہ جائے گا۔
حکومت اور تعلیمی بورڈز کو چاہیے کہ وہ ہوائی قلعے تعمیر کرنے کے بجائے سب سے پہلے دیہی سکولوں میں حقیقی انفراسٹرکچر کھڑا کریں۔ ہر سرکاری سکول میں سولر سسٹم لگایا جائے تاکہ بجلی کی عدم موجودگی کا مسئلہ حل ہو۔ کمپیوٹر لیبز قائم کی جائیں اور مفت انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے۔ استادوں کی ڈیجیٹل تربیت کا باقاعدہ پروگرام چلایا جائے۔ غریب طلبہ کو مفت ڈیوائسز یا کمیونٹی لیول پر کمپیوٹر سینٹرز دستیاب کروائے جائیں۔ جب تک ہر دیہی بچے تک یکساں تعلیم اور ٹیکنالوجی کی رسائی ممکن نہیں ہوتی، تب تک اس قسم کے جدید امتحانی سسٹمز کو مرحلہ وار، مقامی حالات کے مطابق اور مرحلہ وار آزمائش کے بعد نافذ کیا جانا چاہیے۔
امتحانی نظام کو شفاف اور معیاری بنانا یقیناً ایک عمدہ اور ضروری مقصد ہے۔ لیکن اس مقصد کی قیمت معاشرے کے سب سے پسماندہ اور محروم طبقے کے بچوں کے مستقبل کی بلی چڑھا کر نہیں وصول کی جانی چاہیے۔ حقیقی اصلاح وہی ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلے، نہ کہ چند مراعات یافتہ طبقات کو فائدہ پہنچائے۔ پنجاب کے تعلیمی بورڈز اگر واقعی طلبہ کی فلاح چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے دیہی پاکستان کی تلخ حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا اور انہی حقیقتوں کی روشنی میں پالیسیاں بنانی ہوں گی۔ ورنہ آئٹم بینک اور ڈیجیٹل نظام بھی رٹہ سسٹم کی طرح ایک نیا ظلم بن کر رہ جائیں گے۔
