لبنان، اسرائیل معاہدے کے بعد بیروت کی سڑکوں پر احتجاج
اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد جنوبی بیروت میں مظاہرے شروع ہوگئے، جہاں مظاہرین اور موٹر سائیکل سوار سڑکوں پر نکل آئے اور مختلف جھنڈے لہراتے رہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقے میں لوگوں کو احتجاج کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پس منظر میں گاڑھا سیاہ دھواں بھی اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔
رائٹرز نے ویڈیو میں موجود سائن بورڈز، بجلی کے کھمبوں اور سڑکوں کی ساخت کا سیٹلائٹ اور آرکائیو تصاویر سے موازنہ کرکے مقام کی نشاندہی جنوبی بیروت کے طور پر کی ہے۔ تاہم ویڈیو کے ریکارڈ کیے جانے کے درست وقت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، البتہ رائٹرز نے جمعے کی شب ان مظاہروں کی اطلاع دی تھی اور 26 جون سے قبل اس ویڈیو کا کوئی ورژن آن لائن نہیں ملا۔
گزشتہ روز واشنگٹن میں امریکی ثالثی کے تحت کئی روز تک جاری مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان نے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے ایک سیاسی بنیاد فراہم کرنا ہے۔
معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں، تاہم اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ بھی پیچیدہ مذاکرات میں مصروف ہے۔
ایران، جو حزب اللہ کا اہم حامی ہے، پہلے ہی مطالبہ کر چکا ہے کہ لبنان کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جائے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے معاہدے کو "امن اور سلامتی کے لیے فریم ورک قائم کرنے کی جانب پہلا قدم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اسی کے مستحق ہیں۔
ماضی میں بھی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندیوں کے باوجود سرحدی جھڑپیں اور ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ لبنان کی صورتحال ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے۔